سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 303 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 303

سمسم مجلس انصار اللہ کے شیریں ثمرات ذکر گزر چکا ہے کہ حضرت صاحبزادہ صاحب نے ایک رویہ سے رہنمائی حاصل کرتے ہوتے ایک دینی انجمن مجلس النصار اللہ کی بنیاد ڈالی تھی۔اس انجمن کو حضرت صاحبزادہ صاحب نے جن احسن خطوط پر اتوار کیا اور جس طرح ان کوششوں کو شیریں پھل لگے اُن کا یہاں کچھ تذکرہ کیا جاتا ہے۔19ء کو اس انجمن کا افتتاحی جلسہ قادیان میں منعقد ہوا حضرت صاحبزادہ صاحب نے اس جلسہ میں ایک ولولہ انگیز تقریر فرمائی اور ممبروں کومتعدد ہدایات دیں۔مثلا یہ کہ وہ بلیغی لیکچر دینے کے لئے بہت مشق کریں چھٹیاں لے کر مرکز میں آئیں۔ہر روز تبلیغ کے لئے کچھ نہ کچھ وقت دیں خواہ پانچ منٹ کے لئے ہی سہی۔انصار کثرت سے باہم ملاقات کریں کیسی شہر میں جائیں تو وہاں کے انصار کو تلاش کر کے میں۔اگر ریل میں سفر کر رہے ہوں تو جو اسٹیشن راستے میں آتے ہوں وہاں کے انصار کو اطلاع دیں۔انصار سفر میں حتی الوسع انصار ہی کے پاس ٹھہریں۔میں تو صحابہ کی طرح دینی گفت گو کر کے ایمان تازہ کریں۔انصار کے لئے حضرت مسیح موعود علیه السلام اور حضرت خلیفہ ایسح الاول رضی اللہ عنہ اور علمائے سلسلہ کی بعض خاص کتابوں کا پڑھنا بھی لازمی قرار دیا گیا۔حضرت خلیفة المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کی سرپرستی اور حضرت صاحبزادہ صاحب کی قیادت نے انجمن انصار اللہ کے ممبروں میں زندگی کی ایک لہر دوڑا دی۔اور اسلام اور احمدیت کی تبلیغ کا کام جس میں سستی آگئی تھی بڑی تیز رفتاری کے ساتھ شروع ہو گیا۔جولائی 12 میک اس کے ممبروں کے ذریعہ دو تین سو آدمی سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے اور یہ سلسلہ اسی طرح بعد میں بھی جاری رہا۔انجمن نے جماعت میں مبلغین اسلام کی ایک جمعیت تیار کر دی جس نے آئندہ چل کر جماعت احمدیہ کی ترقی و اشاعت میں بڑا بھاری حصہ لیا۔انجمن نے اپنے خرچ پر ایک ممبر چوہدری فتح محمد صاحب سیال کو انگلستان بھیجوایا۔علاوہ ازیں شیخ عبد الرحمان صاحب نو مسلم اور سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب تعلیم وتبلیغ کی خاطر مصر بھیجے گئے ہے ہ میں حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ لندن میں جماعت احمدیہ کا ایک مضبوط مشن ہونا چاہیئے جیس کے لئے آپ نے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو تحریک فرماتی۔1414 الحکم جوبلی نمبر ۳۶ ن ومت