سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 304 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 304

مهم۳۰ چنانچہ چوہدری فتح محمد صاحب سیال جنہوں نے انہی دنوں ایم۔اے کا امتحان پاس کیا تھا اور مولوی محمد الدین صاحب بی۔اے نے اپنے آپ کو اس خدمت کیلئے پیش کر دیا۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے جناب مولوی محمد علی صاحب سیکرٹری صدر انجمن احمدیہ سے فرمایا :- آپ تو کہتے تھے کوئی نوجوان جانے کو تیار نہیں۔میرے پاس تو ایک کی بجائے دو تو جوانوں کی درخواستیں آگئی ہیں " سے اس پر مولوی محمد علی صاحب نے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی خدمت میں یہ رپورٹ پیش کی که به نوجوان دس دس ہزار روپیہ پیشگی کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن چوہدری فتح محمد صاحب سیال نے عرض کیا یہ که به تجویز خود مولوی صاحب کی ہے ہمارا کوئی مطالبہ نہیں ہے چوہدری صاحب نے پورا واقعہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سے بیان کیا۔آپ نے فرمایا مجلس انصار اللہ کا چندہ جو ممالک غیر میں تبلیغ کے لئے جمع ہے وہ میں آپ کو دیتا ہوں لیکن میرا اس طرح خود دینا درست نہیں۔تبرک اور ادب کا تقاضا یہ ہے کہ میں رقم ابھی حضرت خلیفہ اول کو بھجوا دیتا ہوں۔آپ حضور کے مطلب میں جاکر انتظار کریں۔چنانچہ محترم چوہدری صاحب مطب میں حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں حاضر ہوتے اور روپیہ کا انتظار کئے بغیر عرض کیا کہ حضور میں لندن جا رہا ہوں حضور نے فرمایا کرایہ کا کیا انتظام ہے ؟ ابھی آپ یہ کہہ ہی رہے تھے کہ ایک خادم رو مال میں تین سو روپیہ لے کر پہنچ گیا۔حضرت نے یہ رقم بڑی خوشی کے ساتھ چوہدری صاحب کے حوالے کر دی۔وہاں اُس وقت حضرت میر ناصر نواب صاحب بھی تشریف فرما تھے۔انہوں نے بھی ایک سو پانچ روپے حضرت کی خدمت میں پیش کئے۔علاوہ ازیں بعض اور دوستوں نے بھی چندہ دیا لیکن یہ سب رقم سات سو سے کم رہی۔ایک سو پانچ روپے حضرت خلیفہ اول کی فرمائش پر صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے دیئے گئے۔جنوری شملہ میں حضرت صاحبزادہ صاحب نے حضرت خلیفہ المسیح کی اجازت سے پر سوز دعاؤں اور اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ التجاؤں کے ساتھ ہندوستان بھر میں تبلیغ اسلام کے لئے ایک سکیم تیار کی جس کے بعض حنتے یہ تھے :- ہندوستان کے تمام شہروں اور قصبوں میں خاص طور پر جلسے کئے جائیں۔回 مختلف مقامات میں واعظ مقرر کئے جائیں۔سر زبان میں ٹریکٹ شائع ہوں۔2 مناسب مقامات پر سکول کھولے جائیں۔1909 له الفضل ۲۵ دسمبر ۱۹۵۷ء