سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 294
۲۹۴ ہیں۔خیر اس وقت تو میں چپ رہا جب ہم واپس آتے تو میں نے کہا کہ آپ لوگوں نے کوئی اچھے اخلاق نہیں دکھاتے۔کوئی مسافر آدمی تھا۔پنجابی دیکھ کے اسے شوق آیا کہ وہ بھی پنجابی میں باتیں کرے اور اس نے آپ کو کہہ دیا کہ لالہ لاجپت رائے کے وطن کے لوگ آتے ہیں تو اس میں حرج کیا ہوا ؟ وہ کہنے لگے آپ نہیں جانتے کہ پولیس مین تھا اور اس کی غرض یہ تھی کہ ہم لالہ لاجپت رائے کی کچھ تعریف کریں اور یہ ہمارے خلاف ڈائری دے۔اب پتہ نہیں یہ سچ تھایا جھوٹ یا اُن کے دل پر ایک وہم سوار تھا اور اس کی وجہ سے انہوں نے یہ کیا۔بہر حال دنیا میں یہ کارروائیاں ہوتی ہیں سیر روحانی جلد ۳ پھر فرمایا۔"جب انسان بیت اللہ کو دیکھتا ہے اور اس پر اُس کی نظر پڑتی ہے تو اس کے دل پر ایک خاص اثر پڑتا ہے اور وہ قبولیت دعا کا ایک عجیب وقت ہوتا ہے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ جب میں نے حج کیا تو میں نے ایک حدیث پڑھی ہوتی تھی کہ جب پہلے پہل خانہ کعبہ نظر آئے تو اس وقت جو دُعا کی جائے وہ قبول ہو جاتی ہے۔فرمانے لگئے اس وقت میرے دل میں کہتی دُعاؤں کی خواہش ہوئی لیکن میرے دل میں فوراً خیال پیدا ہوا کہ اگر میں نے یہ دعائیں مانگیں اور قبول ہو گئیں اور پھر کوئی اور ضرورت پیش آئی تو پھر کیا ہوگا۔پھر تو نہ حج ہوگا اور نہ یہ خار کعبہ نظر آئے گا۔کہنے لگے تب میں نے سوچ کر یہ نکالا کہ اللہ تعالیٰ سے یہ دُعا کروں کہ یا اللہ میں جو دعا کیا کروں وہ قبول ہوا کرے تاکہ آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے۔میں نے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ سے یہ بات سنی ہوئی تھی جب میں نے حج کیا تو مجھے بھی وہ بات یاد آ گئی۔جونہی خانہ کعبہ نظر آیا ہمارے نانا جان نے ہاتھ اُٹھاتے کہنے لگے دعا کر لو۔وہ کچھ اور دعائیں مانگنے لگ گئے مگر میں نے تو یہی دُعا کی کہ یا اللہ اس خانہ کعبہ کو دیکھنے کا مجھے روز روز کہاں موقعہ ملے گا۔آج عمر بھر میں قسمت کے ساتھ موقع ملا ہے۔پس میری تو یہی دعا ہے کہ تیرا اپنے رسول سے وعدہ ہے کہ اس کو پہلی دفعہ حج کے موقعہ پر دیکھ کر جو شخص دُعا کرے گا وہ قبول ہو گی۔میری دُعا تجھ سے کہیں۔ہے کہ ساری عمر میری دعائیں قبول ہوتی رہیں ریت را شیر دین محمد ادم (سورة بقره ) ۲۰۴ ص ۴۵ ایک اور موقعہ پر حج بیت اللہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : A