سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 289 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 289

٢٨٩ 它 بیت الحرام سے لکھا ہوا تیسرا نامہ محمود سیدی و امامی و استاذی السلام علیکم اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور عنایت سے بخیر و عافیت میر صاحب سمیت کل تاریخ سات نومبر کو مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔خدا تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر اور عنایت ہے کہ اس نے اپنے فضل سے اپنے پاک اور مقدس مقام کی زیارت کا موقعہ دیا۔کل جب مکہ کی طرف اونٹ آرہے تھے۔دل کی عجیب کیفیت تھی کہ بیان نہیں ہوسکتی۔محبت کا ایک جوش دل میں پیدا ہو رہا تھا اور جوں جوں قریب آتے تھے دل کا شوق بڑھتا جاتا تھا۔میں حیران ہوں کہ اللہ تعالیٰ کس طرح اپنی حکمت اور ارادہ کے ماتحت کہاں سے کہاں کھینچ لایا۔پہلے مصر کا خیال پیدا۔پھر یہ خیال آیا کہ راستے میں مکہ ہے۔اس کی زیارت بھی کر لیں۔پھر خیال ہوا کہ حج کے دن ہیں اُن سے بھی فائدہ اٹھایا جائے غرض کہ ارادہ مصر سے مکہ اور حج کا ہوا اور آخر اللہ تعالیٰ نے وہاں پہنچا دیا۔مجھے مدت سے حج کی خواہش تھی اور اس کے لئے دعائیں بھی کی تھیں۔لیکن یہ ظاہر کوئی صورت نظر نہ آتی تھی کیونکہ وہاں کے راستے کی مشکلات سے طبیعت گھبراتی اور یہ بھی خیال تھا کہ مخالفین کوئی شرارت نہ کریں۔لیکن مصر کے ارادہ سے یہ خیال ہوا کہ مصر جانا اور راستے میں مکہ کو ترک کر دینا ایک بے حیائی ہے۔اس میں تو کچھ شک نہیں کہ جدہ سے مہ تک کا سفر نہایت کٹھن ہے اور میر صاحب تو قریباً بیمار ہو گئے اور مجھے بھی سخت تکلیف ہوتی اور تمام بدن کے جوڑ جوڑ ہل گئے لیکن بڑی نعمتیں بڑی قربانی بھی چاہتی ہیں اس بڑی نعمت کے لئے یہ تکلیف کیا چیز ہے ! مدینہ کا راستہ اور بھی طویل اور کٹھن ہے۔لیکن چند دن کی تکلیف اُن پاک مقامات کے دیکھنے کے لئے کہ جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فداہ ابی و امی نے اپنی بعثت نبوت کا ایک روشن زمانہ گزارا کیا چیز ہے؟ میرا دل تو اللہ تعالیٰ کے اس احسان پر قربان ہوا جارہا ہے کہ وہ کس حکمت کے ساتھ مجھے اس جگہ سے آیا۔ذلك فضل الله يوتيه من يشاء اللہ تعالیٰ کی حکمت اس سے بھی معلوم ہوتی ہے کہ اول تو اس جہاز سے جو مصر جاتا تھا رہ گئے۔لیکن بعد میں جب اصرار کر کے دوسرے جہاز میں سوار ہوتے تو مصر -