سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 288
آ اس نعمت سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتا۔ایک شخص مجھے کہنے لگا کہ کیا بہندوستانی کافی نہیں پیتے ؟ یہ تو بڑی نعمت ہے۔حج کی قدر اور اس کی عظمت حج کے بغیر نہیں معلوم ہو سکتی۔واقعی جو دعا اور تو تبہ انی اللہ اس سفر میں دیکھی ہے وہ کبھی نہ دیکھی تھی سینکڑوں زبانوں کے بولنے والے لوگوں کو جہاز میں اکٹھا دیکھ کر اور اُنکی لبيك لبيك کی آواز سُن کر ایسی رقت اور محبت پیدا ہوتی تھی کہ اندازہ سے بڑھ کر رسولِ کریم کے کمالات پر تعجب آتا تھا کہ مکہ سے اُٹھ کر اس ٹور نے دنیا کے کس کس گوشہ کو روشن کر دیا۔آخر وہ کیا قوت قدسی تھی جس نے کروڑوں نہیں اربوں کو ضلالت سے نکال کر ہدایت کا راستہ بتا دیا۔رابغ پر بیٹھتے وقت جب لبیک لبیک کا نعرہ اُٹھا اور میں نے ترکوں کو بھینچ کھینچ کہتے سنا تو میری آنکھوں میں آنسو آگئے کہ یہ لوگ لفظ تو درست بول نہیں سکتے لیکن آنحضرت صلی الله عليه وسلم کی دعاؤں آہ و زاریوں نے اُن کو کھینچ کر راہ اسلام دکھا دی۔رابغ کے قریب اللہ تعالیٰ نے میرے سینے کو دعاؤں کے لئے کھول دیا اور بہت دُعا کی توفیق یلی۔قدرت الہیہ اور اس کے فضل کے قربان جاؤں کہ دو ترک جوار دو تو الگ عربی بھی نہیں جانتے تھے۔ایک میرے دائیں اور ایک میرے باتیں کھڑے ہو گئے اور نہایت درد دل سے آمین آمین پکارنے لگے۔فوراً میرے دل میں آیا کہ یہ قبولیت کا وقت ہے کہ خدا نے یہ لوگ میرے لئے آمین آمین کہنے کے لئے بھیج دیتے ہیں اور حالانکہ وہ نہیں جانتے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں اس وقت میں نے اپنے لئے حضور کے لئے حضور کے خاندان کے لئے اپنی والدہ اور سارے خاندان کے علاوہ احباب قادیان احمدیوں اور پھر حالت اسلام کے لئے بہت دیر تک دعا کی اور وہ دونوں ترک برابر آمین کہتے رہے۔فالحمد لله على ذلك۔میں حیران ہوں۔حد - - میں تو نالائق بھی ہو کر پا گیا درگاہ میں بار کونسی بات تھی کہ خدا تعالٰی نے مجھے اس پاک زمین کی زیارت کی توفیق دی ! فضل ! فضل ! فضل ! دعا کی بہت ضرورت ہے۔گو اس ملک میں دل خوش ہے لیکن جسم بیمار ہے۔میرا ارادہ ہے کہ انشاء اللہ مدینہ سے شام کے راستے مصر ہوتے ہوتے جنوری یا فروری کو واپس ہندوستان روانہ ہو جاؤں۔ومن الله التوفيق - والسلام خاکسار مرزا محمود احمد