سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 262
ایک اور موقع پر آپ نے اسی گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے مندرجہ ذیل دلچسپ واقعہ بیان فرمایا :- وئیں نے ایک پنسل اُن کی میز سے اُٹھا کر اُن کے قریب رکھ دی اور میں نے کہا پادری صاحب ! اس میل کو اُٹھا کر دوسری جگہ رکھنے ! پر آپ قادر ہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں۔پھر میں نے کہا گیا میں قادر ہوں ؟ انہوں نے کہا ہاں ! پھر میں نے ایک تیسرے شخص کی طرف اشارہ کر کے کہا کیا یہ صاحب قادر ہیں ؟ پادری صاحب نے کہا ہاں! میں نے کہا جب ہم تینوں شخص اپنی ذات میں اس فیسل کو ملانے پر قادر ہیں، لیکن پھر بھی ہم تینوں کھڑے ہو کر شور مچا دیں کہ او بہرہ ! ادھر آو او باورچی ! ادھر آو۔جب وہ کمرے میں داخل ہوں تو ہم اُن سے کہیں کہ ہم تینوں سے مل کر یہ منیل اِدھر رکھ دو۔تو بتا ہے وہ ہمیں پاگل سمجھیں گے یا نہیں ؟ پادری صاحب نے کہا آپ کا مطلب ؟ میں نے کہا صرف جواب دے دیجئے۔انہوں نے کہا ہاں پاگل کہیں گے۔میں نے کہا جب خدا باپ خدا بیٹا اور خُدا روح القدس تینوں کائنات کے پیدا کرنے پر بذاتہ قادر ہیں ، اور اس کے باوجود وہ ایک دوسرے کو اس کام کے لئے بلاتے ہیں جس کو وہ اکیلے اکیلے کر سکتے ہیں تو بتائیے دوسرے خدا بلانے والے خدا کو اور ہم لوگ اس خدا کو پاگل کہیں گے یا نہیں ؟ اور پاگل خدا ہو ہی نہیں سکتا۔یا تو پاگل کہلا کر وہ خدا نہ رہے گا یا ایسے پاگل دنیا میں وہ اودھم مچا دیں گے کہ دنیا ہی تباہ ہو جائے گی۔(تفسیر کبیر سورۃ انبیاء سند - ۵۰۲) اس سفر کے دوران ایک اور دلچسپ واقعہ بھی قابلِ ذکر ہے۔محترم شیخ قص صاحب مرحوم جو ایک وقت میں افسر امانت صدر انجمن احمد یہ رہے ہیں بیان کرتے ہیں کہ : شاہ میں میں ڈالموزکی ملازم تھا اور جس مکان میں میں رہتا تھا اس کے قریب ہی کو تو ال عبد الغفار خان کا مکان تھا۔اس کے پاس ملنے جلنے والوں کا جمگٹھا رہتا۔لیکن میں با وجود قریب رہنے کے بھی اس کے ہاں کبھی نہ گیا تھا۔جوب کافی عرصہ اسی طرح گزر گیا تو ایک دن جبکہ میں اس کے مکان کے سامنے سے گزر رہا تھا۔اس نے مجھے بازو سے پکڑ لیا اور یہ کہتے ہوتے اپنے مکان میں لے گیا کہ پڑوس میں رہ کر اس طرح لاتعلقی چھی