سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 259 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 259

۲۵۹ آپ ابھی انجیل کی نسبت کلام فرما دیں۔اگر قرآن شریف کی تحقیقات کی ضرورت ہوگی تو میں کسی مولوی کے پاس جاؤں گا۔قرآن شریف کی تحقیقات کے لئے مجھے کسی یا دری کے پاس جانے کی کیا ضرورت ہے۔وید کی نسبت میں پنڈت سے پوچھوں گا۔قرآن شریف کی نسبت کسی مولوی سے اور بائبل کی نسبت پادری صاحب سے تحقیقات کروں گا۔یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ میں بائبل سمجھنے کے لئے کسی مولوی کے پاس جاؤں اور قرآن شریف سمجھنے کے لئے کسی پادری کے پاس۔آپ اس وقت با تبل سے کلام فرما دیں۔پادری صاحب (مسکرا کر ) ہاں تو بے شک آپ بائیل کی نسبت سوال کرتے ہیں۔بائبل سے جیسا کہ میں نے بتایا ہے میں معلوم ہوتا ہے کہ کلام سے دُنیا پیدا ہوئی۔طالب حق تو پادری صاحب ! آپ تثلیث کے کیوں قاتل ہیں۔کلام ایک صفت ہے اور خدا میں بیسیوں صفات پائی جاتی ہیں۔دیکھتا ہے سنتا ہے۔قادر ہے اعلیم ہے ' خالق ہے۔آپ صرف صفت کلام کو ہی کیوں خُدا قرار دیتے ہیں۔آپ کل صفات الہیہ کو اپنائے الہیہ قرار دیں۔آپ کے مذہب کے رو سے تو صرف شکلیث پر ہی کفایت نہیں کی جا سکتی۔پادری صاحب، اوہو! آپ کو غلطی لگ گئی۔کیا آپ خدا کے کلام کو انسانی کلام سمجھتے ہیں اس بات کو تو آپ بھی مانتے ہیں کہ خدا میں اور انسان میں مشابہت نہیں ہے کلام صفت نہیں کلام قدرت ہے۔طالب حق پادری صاحب ! کلام وہ ذریعہ ہے کہ میں سے ہم اپنا مافی الضمیر دوسرے پر ظاہر کرتے ہیں۔یہ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ میں اور ہم میں بہت فرق ہے وہ خالق ہے اور ہم مخلوق ہیں۔لیکن جیسے انسان کے دیکھنے کی طاقت سُننے کی طاقت اور اس کے علم کو آپ لوگ صفات انسانی قرار دیتے ہیں۔اسی طرح خدا تعالیٰ کی بھی ان طاقتوں کو صفات ہی قرار دیتے ہیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ خدا کی صفت علم کو یا صفات سمع کو تو آپ صفت قرار دیں اور صفتِ کلام کو اس بنا پر کہ خدا اور انسان میں