سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 249
" ۲۴۹ کون دے دل کو تسلی ہر گھڑی اسب آڑے وقتوں میں آڑے آئے کون کون دکھلاتے ہمیں راہ ہدی حضرت باری سے اب ملواتے کون سرد مہری سے جہاں کی دل ہے مرد گرمتی تاثیر سے گرماتے کون کون دُنیا سے کرے ظلمت کو دور راہ پر بھولے ہوؤں کو لاتے کون میرے واسطے زاری کرے درگورتی میں میرا جائے کون دہ گل رعت ہی جب مر کھا گیا پھر بہب ار جانفزا دکھلائے کون گل نہیں پڑتی اسے اس کے سوا اس دل غمگین کو سمجھائے کون اے مسیحا تیرے سودائی جو ہیں ہوش میں مبتلا کہ ان کو لائے کون" زمزمی فی کمر معظم جاتے ہوئے یہ نظم صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب نے لکھی روڑے جاتے ہیں یہ امید تمنا سوئے باب شاید آجائے نظر روتے دل آیا ہے نقاب یا انہی ! آپ ہی اب میری نصرت کیجئے کام لاکھوں ہیں مگر ہے زندگی مثل حجاب کیا بتاؤں کس قدر کمزوریوں میں ہوں پھنسا سب جہاں بیزار ہو جاتے جو ہوں میں بے نقاب میں ہوں خالی ہاتھ مجھے کو یونسی جانے دیجئے شاہ ہو کر آپ کیا لیں گے فقیروں سے حساب میری خواہش ہے کہ دیکھوں اس مقام پاک کو جس جگہ نازل ہوئی مولا تیری ام الکتاب این ابراہیم آتے تھے جہاں باتشنہ لب کر دیا خشکی کو تو نے اُن کی خاطر آب آب میرے والد کو بھی ابراہیم ہے تو نے کہا جس کو جو چاہے بنائے تیری ہی عالی جنا ہے ابن ابراہیم بھی ہوں اور تشتہ کب بھی ہوں اس لئے جاتا ہوں میں مکہ کو با امید آب چشمه انوار میرے دل میں جاری کیجئے پھر دکھا دیجئے مجھے عنوانِ رُوئے آفتاب له بدی قادیان ۲۷ ر مستی نشده ص ۳ ۱۹۱۳ سے تشحید الا زبان ماہ فروری سلسله صله