سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 250
۲۵۰ وو یا د حبیب اسے چشمہ علم و ہڈی اے صاحب فہم وذکا اسے نیک دل اسے باصفا اسے پاک طینت با حیا اسے مقتدا اے پیشوا اے میرزا اسے رہنما اسے مجتبی اسے مصطفیٰ اسے نائب رب المورتی کچھ یاد تو کیجئے ذرا ہم سے کوئی اقرار ہے دیتے تھے تم مردم خبر ندھتی تھی جس کہاں گھر مٹ جائے گا سب شور و شرموت آتنگی شیطان پر پاؤ گے تم فتح و ظفر ہوں گے تمہارے بحروبر آرام سے ہوگی بسر ہوگا خُدا میقہ" واں تھے یہ وعدے خوبستہ یاں حالت ادبار ہے چھینے گئے ہیں ملک سب باتی ہیں اب شام پر پیچھے پڑا ہے اُنکے اب دشمن لگاتے تا نقب ہم ہو رہے ہیں جاں بلب بنتا نہیں کوئی سبب ہیں منتظر اس کے کہ کب آئے ہمیں امداد آب پیالہ بھرا ہے لب طلب ٹھو کر سہی اک درکار ہے کیا آپ پر الزام ہے یہ خود ہمارا کام ہے غفلت کا یہ انجام ہے سیتی کا یہ انعام ہے قسمت یونسی بد نام ہے دل خود اسیر دام ہے اب کس جگہ اسلام ہے باقی فقط اک نام ہے ملتی نہیں کے جام ہے بس اک نہیں آزار ہے لے 1917 له تشحید الاذہان مارچ ۱۹۱۳ ص۱۵۳٬۱۵۲۔۔