سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 242
۲۴۲ کے متعلق ایک انجمن قائم کی جس کے سپرد اس رسالہ کا انتظام اور اس کی ترقی کے لئے کوشش کرنا اور نوجوانوں میں مضمون نویسی اور علمی ترقی کی رغبت پیدا کرنا تھا۔اور آپ ہر ایک ذریعہ سے کوشش کرتے تھے کہ کثرت سے لوگ اس تحریک میں شریک ہوں۔رسالہ کے علاوہ آپ نے انجمن تشحید الاذہان کے زیر اہتمام ایک مجلس بھی قائم کی جس کا نام مجلس ارشاد تھا۔اور اس سے آپ کی غرض یہ تھی کہ تبلیغی فوج میں بھرتی ہونے والے نوجوان اسلامی جدال کے لئے اس دوسرے ہتھیار کو بھی چلانے میں مشتاق ہوں جس کا نام تقریر ہے۔یعنی وہ تحریر اور تقریر دونوں ہتیاروں سے حفاظت اسلام اور اشاعت اسلام کی لڑائیاں لڑنے کے لئے تیار ہو جائیں۔پھر چونکہ آپ کی خواہشات کی جولانگاہ صرف ہندوستان نہ تھا بلکہ آپ تمام دنیا کو اسلام کے لئے فتح کرنا چاہتے تھے اور آپ کی اسی نوجوانی کے زمانہ میں یہ آرزو تھی کہ روتے زمین کے شرق و غرب میں اسلام کا جھنڈا لہراتا ہوا دکھائی دے۔اس لئے آپ نے مجلس ارشاد کے اجلاس دو حصوں میں تقسیم کر دیتے۔ایک اردو اور ایک انگریزی۔۔۔یہ کوششیں اگر چہ آپ کی عمر اور قادیان کے حالات کے لحاظ سے چھوٹے پیمانہ پر تھیں، لیکن اِن سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوانی کے زمانہ میں ہی آپ کے دل کے اندر کیا کیا اُبال اُٹھتے تھے اور کھیل کود کے زمانہ میں آپ کے سینہ کے اندر کس بات کی تڑپ تھی۔پھر جوں جوں آپ کی عمر بڑھتی گئی۔آپ کے کام کا دائرہ بھی زیادہ وسیع ہوتا گیا۔آپ نے لڑکپن کے زمانہ میں سلسلہ کے نوجوانوں کو اسلام کی قلمی اور لسانی خدمت کے لئے تیار کرنے کی غرض سے رسالہ تشخید الادمان مباری کیا تھا اور مجلس ارشاد کی بنیاد ڈالی تھی۔خلافت اُولی کے زمانہ میں آپ نے تمام جماعت احمدیہ کی تعلیم و تربیت کے لئے حضرت خلیفہ مسیح الاوّل رضی اللہ تعالی عنہ کی اجازت سے ایک ہفتہ وار