سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 208 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 208

Y-A خواہشمند ہیں۔اس موقف کو اختیار کرنے اور اس پر اصرار کرنے پر وہ ایک لحاظ سے مجبور بھی تھے۔احباب جماعت کی بھاری اکثریت حضرت صاحبزادہ صاحب سے بوجوہ گہری محبت رکھتی تھی اور آپ کی رائے کو بڑی وقعت اور احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔نظام خلافت کے بارہ میں آپ کا موقف بڑا واضح اور غیر مبہم تھا اور خلیفہ کی اطاعت سے متعلق بھی آپ کے نظریات اور آپ کے عمل سے محبت بخوبی آگاہ تھی ہیں جب تک آپ کے خلوص نیت کو جماعت کی نظر میں مجروح اور مشکوک نہ کیا جاتا ، آپ کے قومی موقف کو شکست دے کر نظام خلافت کو گزند پہنچانا ممکن نہ تھا۔منکرین خلافت خوب جانتے تھے کہ آپ کو پچھاڑے اور مغلوب کئے بغیر وہ جماعت احمدیہ سے خلافت کے وجود کو کبھی ختم نہیں کر سکتے ہیں اس سنگ راہ کو ہر قیمت پر دور کرنا ان کیلئے ایک لابدی امر تھا۔چنانچہ اس مقصد کے حصول کے لئے آپ کے خلاف الزام تراشی اور بدگمانیاں پھیلانے کی مہم ایسی تیز کر دی گئی کہ متعدد احباب اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔یہ کوششیں رفتہ رفتہ ذاتی عناد اور بعض میں تبدیل ہو گئیں اور آپ کی دل آزاری کیلئے مختلف جملے ایجاد کئے جانے لگے۔ان حربوں میں سے ایک یہ تھا کہ خطوط کے ذریعہ آپ کو مخاطب کر کے نہایت تکلیف دہ الزامات اور طعن وتشنیع کا نشانہ بنایا جاتا۔چنانچہ ایسے ہی ایک انتہائی دل آزار خط سے مجروح اور دل شکستہ ہو کر بالآخر آپ نے ایک مطبوعہ خط کے ذریعہ ان تمام الزاستان سے اپنی بریت کا اعلان کیا تا کہ احباب جماعت پر حقیقت حال واضح ہو جائے اور وہ لاعلمی میں اس فتنہ کا شکار نہ ہو جائیں۔یہ خط مین وئن پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔آپ اس گمنام معترض کو جس نے ایک مطبوعہ کھلی چھٹی لے کے ذریعہ آپ کو ہدف علامت بنایا تھا، مخاطب کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- " مجھے آپ کے خط کو پڑھ کر جو صدمہ ہوا اُسے تو خدا ہی جاتا ہے لیکن وہ صدمہ کوئی نیا نہ تھا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ میں اس قسم کے الزامات لگائے جانے کا عادی ہوں اور جب سے ہوش سنبھالا ہے غیروں کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ اپنے دوستوں ہی کے ہاتھوں سے وہ کچھ دیکھا اور ان زبانوں سے وہ کچھ نا کہ دوستوں سے اس قدر صدمے اٹھائے ہم نے دل سے دشمن کی عداوت کا گلا جاتا رہا میں ایک گہنگار انسان ہوں اور مجھے پاک و مظہر ہونے کا دعوئی ے حضرت صاحبزادہ صاحب نے اصل خط اور اپنا مفصل جواب الفضل 9 نمیمیرہ میں شائع کروادیا تھا