سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 209 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 209

۲۰۹ نہیں۔ہر روز مجھ سے غلطیاں ہوتی ہیں اور کون ھے جن سے غلطیاں سرزد نہ ہوتی ہوں۔لیکن یا وجود اس کے جو گناہ سرزد نہ ہو اس کی طرف منسوب ہونے پر دن گھبراتا ضرور ھے۔جو جملے آن مکرم نے کہتے ہیں اُن کوئی ثبوت بھی دیتے تو شاید ان کے جواب دینے کے قابل ہوتا لیکن وہ کہتے ہیں کہ تم نے یوں کیا، یوں کیا۔اس کا جواب سوائے اس کے اور کیا ہو سکتا ھے کہ میں نے یوں نہیں کیا۔اور آپ نے صرف بدظنی سے کام لیا ہے اور اعتراض کرنے میں جلدی کی ہے۔اگر یہ خطہ اکیلا آتا اور اس کے سوا اور میں کوئی آواز نہ سنتا تو میں بالکل خاموشن رہتا۔لیکن آج پانچ سال کے قریب عرصہ ہونے کو آید ھے کہ اس قسم کے اعتراضات میں سنتا آرہا ہوں لیکن پہلے تو افواھا ان اعتراضات کا علم ہوتا تھا اور اب کچھ مدت سے تحریراً بھی یہ الزاست مجھ پر قائم کئے جانے لگے ہیں اور صرف بھی تک بس نہیں بلکہ ٹریکیوں کے ذریعہ یہ خیال تمام جماعت احمدیہ میں پھیلانے کی کوشش کی گئی ھے۔چنانچہ جن دوستوں تک ہی اظہار حق" نامی ٹریکٹ جولاہور سے کسی گمنام صاحب کی طرف سے شاتھ ہوا ھے پہنچا ھے اور اکثر لوگوں کو۔ناقل) پہنچا ہوگا کیونکہ وہ پنجاب و ہندوستان میں بکرے شائع کیا گیا ھے۔اُن کو علم ہو گیا ہو گا کہ اب یہ معاملہ زبانوں سے گزر کر تحریر تک اور تحریر سے گزر کر اشاعت تک جاپہنچا ہے۔اس لئے ضرورت ھے کہ مُجملاً اس کے متعلق کچھ لکھا جائے۔میں حیران ہوں کہ اس معاملہ پر کچھ لکھوں تو کیا لکھوں۔آخر وہ کون سے دلائل میں جن کو توڑوں۔جب سب معاملہ کھے بنا ہی بدظنی پر ھے تو میں بدلتی میں دلائل کیا دُون عقلی مسئلہ ہو تو اس کا جواب دلائل عطیہ سے دیا جائے۔لیکن جب یہ معاملہ ہی رویت و سماعت کا ھے تو جب تک میری تحریر یا تقریر سے یہ الزامات مجھ پر ثابت نہ کہتے جائیں اس وقت تک میں ان الزامات کا کیا جواب دے سکتا ہوں