سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 199
199 پا مکان کو کیوں گرا رہے ہیں ؟ تو ایک شخص نے جواب دیا کہ یہ جماعت احمدیہ ہے اور اس کا ایک حصہ اس لئے گرا رہے ہیں تا پُرانی اینٹیں خارج کی جائیں (اللہ رحم کرے) اور بعض کچی اینٹیں پکی کی جائیں۔اور یہ لوگ انسٹیں اس لئے یا تھتے ہیں تا اس مکان کو بڑھایا جائے اور وسیع کیا جائے۔یہ ایک عجیب بات تھی کہ سب ہتھیروں کا منہ مشرق کی طرف تھا۔اس وقت دل میں خیال گزرا کہ یہ تیرے فرشتے ہیں اور معلوم ہوا کہ جماعت کی ترقی کی فکر ہم کو بہت کم ہے بلکہ فرشتے ہی اللہ تعالیٰ سے اذن پا کر کام کر رہے ہیں۔چنانچہ میں نے سوچا کہ جو کوئی کسی کے کام میں اُسے مدد دیتا ہے تو وہ اس کا دوست اور پیارا بن جاتا ہے۔تو اگر ہم اس وقت ملائکہ کے کاموں میں مدد دیں گے جو خود اپنی ہی مدد ہے، تو ضرور ہے کہ ملائکہ کا ہم سے خاص تعلق ہو جائے اور اس تعلق کی وجہ سے خود ہمارے نفوس کی بھی اصلاح ہو اور ملائکہ ہمارے دلوں میں کثرت سے نیک تحریکیں شروع کر دیں چنانچہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں دو تحریکیں پیدا کیں کہ حسین سے سلسلہ کی خدمت مد نظر ہے۔۔۔۔دوسری تحریک جو اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالی ہے کہ ایک انجمن قائم کی جائے جس کے ممبران خصوصیت سے قرآن و حدیث اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کی تبلیغ کی طرف توجہ رکھیں اور افراد جماعت میں صلح و آشتی پیدا کرنے کی کوشش کریں اور اس کے ممبران اپنے دنیاوی کام کرتے ہوئے بھی اپنے آپ کو دین کے لئے وقف کر دیں۔۔۔۔۔۔کام تو اللہ ہی نے کرنا ہے۔ہماری تو کوششیں ہی ہیں اور سچی بات تو یہ ہے کہ کوشش کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے۔یہ مست سمجھو کہ ہم اس کام کے لائق نہیں۔اگر ہمت و استقلال ہو اور خدا تعالیٰ سے سچا تعلق ہو تو پھر وہ خود ہی قرآن وحدیث کا علم سکھا دیتا ہے۔۔۔اسلام کا سورج کسن کے نیچے ہے خدا کی حضوری میں ترمیو آووزاری کرو تا وہ گن ڈور ہو اور دنیا خدا تعالے کا چہرہ دیکھے اور قرآن اور رسولِ