سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 195 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 195

۱۹۵ نہیں۔آپ نے فرمایا تمہیں اپنی خواب یاد نہیں رہی۔تم نے تو خود ہی خواب میں اپنے آپ کو میرے دائیں طرف دیکھا تھا ہے عنه بهر حال مسجد مبارک میں جب لوگ جمع ہو گئے تو اس کے تھوڑی دیر بعد حضرت خلیفہ المسیح رضی ا سے گھر سے مسجد میں تشریف لائے۔کوئی دو اڑھائی سو کا مجمع تھا جس میں اکثر احمد یہ جماعتوں کے نمائندے تھے۔بے شک ایک دُنیا دار نا واقف کی نظر میں وہ دو اڑھائی سو بے زر اور پے زور معمولی انسانوں کا ایک مجمع تھا جو کرسیوں اور مسندوں سے عاری ارزاں چٹائیوں کے ایک ادنی فرش پر بیٹھا تھا۔ممکن ہے یہ اس کی نظر میں ایک معمولی اور ناقابل التفات نظارہ ہو۔لیکن ایک دنیا دار کو کیا خبر کہ خدا کی رضا کی نگاہیں اُن خواتین اسلام پر کیسے پیار اور انتفات سے پڑ رہی ہوں گی، جن کے دل ایمان کی دلت پڑ سے مالا مال اور یقین کی قوت سے پر تھے اور جو خدا کے وعدوں پر ایک غیر فانی اور غیر متزلزل ایمان رکھتے تھے۔وہ یہ جانتے تھے کہ اس مجلس کے ساتھ حقیقی اسلام یعنی احمدیت کی ترقی اور غلبہ کی تقدیر وابستہ ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے اس موقع پر ایک دل ہلا دینے والی تقریر کی۔آپنے فرمایا ہ تم نے اپنے عمل سے مجھے اتنا دکھ دیا ہے کہ میں اس حصہ مسجد میں بھی کھڑا نہیں ہوا جو تم لوگوں کا بنایا ہوا ہے بلکہ میں اپنے مرزا کی مسجد میں کھڑا ہوائیوں آپ نے اپنی تقریر کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا۔میرا فیصلہ ہے کہ قوم اور انجمن دونوں کا خلیفہ مطاع ہے۔اور یہ دونوں خادم ہیں۔انجمن مشیر ہے۔اس کا رکھنا خلیفہ کے لئے ضروری ہے جس نے یہ لکھا ہے کہ خلیفہ کا کام بیعت لینا ہے اصل حاکم انجمن ہے وہ تو بہ کرے۔خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ اگر اس جماعت میں سے کوئی مجھے چھوڑ کر مرتد ہو جائے گا تو میں اس کے بدلے تجھے ایک جماعت دوں گا۔کہا جاتا ہے کہ خلیفہ کا کام صرف نماز پڑھانا یا جنازہ یا نکاح پڑھا دینا اور یا بعیت سے لینا ہے۔یہ کام تو ایک ملا بھی کر سکتا ہے۔اس لئے کسی خلیفہ کی ضرورت نہیں اور میں اس قسم کی بیعت پر تھوکتا بھی نہیں بیت سے خلافت احمدیہ کے مخالفین کی تحریک ص ۱۵-۱۷