سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 187 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 187

JAL پندرہ دن ہی کے اندر اندر ان کے خیالات میں ایسی نمایاں تبدیلی نہیں آسکتی تھی۔دراصل یہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عمر کے آخری ایام میں آپ کے وصال سے قبل ہی جمہوریت کے ذریعہ جماعت احمدیہ پر قابض ہونے کے خواب دیکھنے لگے تھے۔اس خیال کے پیدا ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وصال سے قریباً تین سال قبل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انہی منشاء کے تحت ایک ایسا نظام جاری فرمایا تھا جسے نظام وصیت کہا جاتا ہے۔اس نظام کا خاکہ یہ ہے کہ ایسے تمام متقی اور پر ہیز گار مخلصین جماعت کو بعد از وفات ایک علیحدہ قبرستان میں دفن کیا جائے جو تادم مرگ شریعت اسلامیہ کے ظاہر و باطن پر عمل پیرا رہے ہوں اور جو اسلام کو از سر نو بیا میں غالب کرنے کی خاطر اس حد تک مالی قربانی کرنے کا عہد کریں کہ زندگی بھر اپنی آمد کا بڑا حصہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کو خدمت دین کے لئے پیش کرتے رہیں اور یہ وصیت بھی کریں کہ اُن کی وفات کے بعد اُن کی تمام جانداد کا برا حصہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کی تحویل میں دینی مقاصد پر خرچ کرنے کی غرض سے پیش کر دیا جائے گا۔ایسے مخلصین کے لئے چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت کی بشارت تھی اس لئے آپ نے اس مقبرہ کا نام بہشتی مقبرہ تجویز فرمایا۔اس نظام کو چلانے کے لئے اور اس مخصوص آمد اور جائداد کے انتظام و انصرام کی خاطر آپ نے ایک ایسی انجمن بھی قائم فرماتی جو آپ کی زندگی میں بھی اور آپ کے بعد بھی اس کام کو باحسن طریق سر انجام دیتی رہے۔اس انجمن کے ممبران میں بہت سے دیگر احباب کے علاوہ مذکورہ بالا دو بزرگان یعنی مولانا محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب بھی شامل تھے۔لہذا معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت سے اُن کے ذہن میں کچھ اس قسم کا تصور قائم ہوگیا کہ گویا یہ انجن ان تمام اختیارات میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام کی جانشین ہو گی جو آپ کو بحیثیت مامور من اللہ حاصل تھے۔اول تو اس انجمن کے قیام سے یہ خیال پیدا ہونا کہ گویا حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام دنیا میں کوئی جانشین مقرر فرما رہے ہیں جو آپ کے تمام فرائض منصبی کو ادا کرے گا اس لئے غلط تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو یہ انجمن اپنی زندگی ہی میں قائم فرما دی تھی اور آپ کی زندگی ہی میں اس انجمن نے اپنے محدود دائرہ کار میں کام شروع کر دیا تھا۔پس اس انجمن کو نہ تو اس وقت امام جماعت احمدیہ کا جانشین ہونے کا مقام حاصل ہوا اور نہ آپ کے وصال کے بعد اس بارہ میں سوچا جا سکتا تھا۔دوسرے انجمن کے متعلق یہ خیال کر لینا کہ یہ جدید جمہوری نظام کے مشابہ کوئی ادارہ تھا اس لئے بھی بالید است غلط تھا کہ انجمن کے تمام ممبران کو خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام