سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 182
IAF تقریر فرمائی جس میں جماعت کو توحید کا سبق دے کر اپنی خوشخبریوں کے پورا ہونے کے فلسفہ کے بارہ میں کچھ فرمایا اور پھر اپنے امام منتخب ہونے سے متعلق اپنے دلی جذبات اور خیالات کا ان الفاظ میں اظهار فرمایا :- میری پچھلی زندگی پر غور کر لو میں کبھی امام بننے کا خواہشمند نہیں ہوا۔مولوی عبد الکریم مرحوم امام الصلوۃ بنے تو میں نے بھاری ذمہ داری سے اپنے تئیں سبکدوش خیال کیا تھا۔میں اپنی حالت سے خوب واقف ہوں اور میرا رب مجھ سے بھی زیادہ واقف ہے میں دُنیا میں ظاہر داری کا خواہش مند نہیں۔میں ہرگز ایسی باتوں کا خواہشمند نہیں۔اگر خواہش ہے تو یہ کہ میرا مولیٰ مجد سے راضی ہو جاتے۔اس خواہش کے لئے ہیں دعا نہیں کرتا ہوں۔قادیان بھی اسی لئے رہا اور رہتا ہوں اور رہوں گا۔میں نے اس فکر میں کئی دن گزارے کہ ہماری حالت حضرت صاحب کے بعد کیا ہوگی۔اسی لئے میں کوشش کرتا رہا کہ میاں محمود کی تعلیم اس درجہ تک پہنچ جاتے۔۔۔اگر تم میری بیعت ہی کرنا چاہتے ہو تو سن لو کہ بیعت یک جانے کا نام ہے" آخر میں آپ نے ارشاد فرمایا :- اب تمہاری طبیعتوں کے رخ خواہ کسی طرف ہوں، تمہیں میرے احکام کی تعمیل کرنی ہوگی۔اگر یہ تمہیں منظور ہو تو میں طوعاً و کرہا اس بوجھہ کو اٹھاتا ہوں۔وہ بیعت کے دس شرائط بدستور قائم ہیں۔ان میں خصوصیت سے میں قرآن کو سیکھنے اور زکوۃ کا انتظام کرنے واعظین کے بہم پہنچانے اور ان امور کو جو وقتاً فوقتاً اللہ میرے دل میں ڈالے شامل کرتا ہوں۔پھر تعلیم دینیات؟ دینی مدرسے کی تعلیم میری مرضی اور منشا کے مطابق کرنا ہوگی اور میں اس بوجھ کو صرف اللہ کے لئے اُٹھاتا ہوں جس نے فرمایا : ولتكن مِنكُمْ أمَّة يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وأل عمران : ١٠٥) یاد رکھو کہ ساری خوبیاں وحدت میں ہیں جس کا کوئی زمیں نہیں وہ مرچکی والے له الحكم ارجون له مثه