سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 152 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 152

۱۵۲ والی پاکیزہ دعاؤں کو رحمت اور شفقت کی نظر سے دیکھا اور اس دل کی تسلی کے خود انتظامات فرمائے۔یہ تسلی رویائے مبشرہ کی صورت میں بھی دی گئی اور الہام کی زبان میں بھی اور کشفی رویت کے کے ذریعے بھی۔حضرت سید سرور شاہ صاحب نے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک جلیل القدر صحابی اور جید عالم تھے اور جن کے علم و فضل کا شہرہ دور دور تک پھیلا ہوا تھا اور حضرت صاحبزادہ صاحب کے اساتذہ میں سکتھے بیان فرماتے ہیں: حضرت خلیفہ المسیح الثانی مجھ سے پڑھا کرتے تھے تو ایک دن میں نے کہا کہ میاں ! آپ کے والد صاحب کو تو کثرت سے الہام ہوتے ہیں۔کیا آپ کو بھی الہام ہوتا اور خوا ہیں وغیرہ آتی ہیں ؟ تو میاں صاحب نے فرمایا کہ : مولوی صاحب! خوا ہیں تو بہت آتی ہیں اور میں ایک خواب تو تقریبا روز ہی دیکھتا ہوں اور جونہی میں تکیہ پر سر رکھتا ہوں اس وقت سے لے کر صحیح کو اُٹھنے تک یہ نظارہ دیکھتا ہوں کہ ایک فوج ہے جس کی میں کمان کر رہا ہوں اور بعض اوقات ایسا دیکھتا ہوں کہ سمندروں سے گزر کر آگے جا کر حریف کا مقابلہ کر رہے ہیں اور کئی بار ایسا ہوا ہے کہ اگر میں نے بار گزرنے کے لئے کوئی چیز نہیں پائی تو سر کنڈے وغیرہ سے کشتی بنا کر اور اس کے ذریعہ پار ہو کر حملہ آور ہو گیا ہوں۔میں نے جس وقت یہ خواب آپ سے سنا اسی وقت سے میرے دل میں یہ بات گڑی ہوتی ہے کہ یہ شخص کسی وقت یقیناً جماعت کی قیادت کرے گا اور میں نے اسی وجہ سے کلاس میں میٹھ کر آپ کو پڑھانا چھوڑ دیا۔آپ کو اپنی کرسی پر بیٹھاتا اور خود آپ کی جگہ بیٹھے کر آپ کو پڑھاتا۔اور میں نے خواب سن کر آپ سے یہ بھی عرض کر دیا تھا کہ میاں ! آپ بڑے ہو کر مجھے بھلا نہ دیں اور مجھ پر بھی نظر شفقت رکھیں میلے بچپن میں آپ کے الہام کے بارہ میں آپ کے ساتھ کھیلے ہوئے ایک پرانے دوست جو بفضل تعالیٰ ** تادم تحریر زندہ موجود ہیں، بیان فرماتے ہیں :- شاید یہ امرکسی دوسری جگہ شائع شدہ یا ریکار ڈ میں آچکا ہو، لیکن میں اس 21940 نه الفضل ۶ار فروری