سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 5 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 5

کے پھیلاؤ کے لئے خاص کشش کا موجب بنی۔انگریزی حکومت کے مفادات بھی اسی امر سے وابستہ تھے کہ ہندوستانی ذہن جلد از جلد اور زیادہ سے زیادہ عیسائی نظریات کے تابع ہو کر حکومت برطانیہ کے استحکام میں ممد و معاون ثابت ہو۔ہندوستان میں مسلمانوں کے تین صد سالہ سیاسی اقتدار کا خاتمہ ہندومت کے لئے خوش آئند خوابوں کا تحفہ لے کر آیا تھا :- -3 از سر نو ہندو مہاراشٹر کے قیام کا تصور ذہنوں میں جنم لینے لگا تھا اور اس کے طبعی نتیجہ کے طور پر غیر قوموں کو نندھی کے ذریعہ ہندومت میں جذب کرنے کا تصور بھی پیدا ہو رہا تھا۔ب۔ہندو تہذیب و تمدن کے احیاء کے منصوبے بن رہے تھے۔پس یہ ضروری تھا کہ سابق آقاؤں یعنی مسلمان حکمرانوں کی تہذیب وتمدن کے نقوش کو مسمار کر کے انہی مقامات پر ہندو تہذیب کی نئی عمارتیں بلند کی جائیں۔ج اسلام نے پُر امن تبلیغ کے ذریعہ بر صغیر میں جو وسیع نفوذ کیا تھا اُسے مسلمانوں کے سیاسی اقتدار کا نتیجہ قرار دیا جانے لگا تھا اور شدید۔۔جذبہ انتقام کے ساتھ ہندومت کی طرف سے اسلام پر یلغار کے منصوبے بنائے جارہے تھے تاکہ بر صغیر سے اس بدیشی مذہب کا مکمل صفایا کر دیا جائے۔د ہندو مفکرین کے ذہنوں میں ایسی سیاسی تحریکات جنم لے رہی تھیں جو بعض صورتوں میں کھلم کھلا اسلم کش عزائم کی آئینہ دار تھیں اور بغیر کسی تلبیس کے اُن کے سیاسی مقاصد میں یہ بات داخل تھی کہ ہندوستان پر سوائے ہندو کے کسی کو راج کا حق نہیں اور مسلمانوں کو بزور شمشیر مغلوب کر لینا اُن کا مذہبی اور پیدائشی حق ہے۔دوسری قسم کی سیاسی تحریکات تلبیس کا پہلو لئے ہوتے تھیں لیکن انجام کار سب کے مقاصد ایک ہی تھے یعنی مسلمانوں پر ایسا مکمل اور آخری -