سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 4
بنتا تھا اور جس کی تمام قوتیں اور فطری استعدادیں اسی تحریک کو کامیاب بنانے کے لئے وقف ہو جانا تھیں ہیں جب تک کسی قدر تفصیل کے ساتھ اس تحریک کے خد و خال پر روشنی نہ ڈالی جائے اور یہ پس ظاہر نہ کیا جائے کہ اس پیشگوئی کا اس تحریک سے کس نوعیت کا تعلق ہے، قارئین اس سوانح حیات مذہبی پس منظر D-O تاریخ مذاہب میں 19 ویں صدی کا نصف آخر اور نویں صدی عیسوی کا آغاز خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔یہ وہ دور ہے جب کہ تمام روئے زمین پر ایک طرف تو بڑے بڑے مذاہب کے در میان گهری سنجیدگی اور انہماک کے ساتھ نظریاتی جنگ لڑی جارہی تھی اور دوسری طرف احیائے علوم اور تہذیب نو کے نتیجہ میں مذہبی اور غیر مذہبی نظریات باہم دگر بڑی شدت کے ساتھ بر سر پیکار تھے اول الذکر مقابلہ میں عیسائیت اسلام اور ہندومت کا مجادلہ خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ان تینوں مذاہب کی باہمی جنگوں کے لئے ہندوستان ہی بہترین اکھاڑا ثابت ہو سکتا تھا چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اویں صدی کے نصف آخر میں سر زمین ہند میں ان تینوں مذاہب کے درمیان وسیع پیمانے پر تاریخی اہمیت کی نظریاتی جنگیں لڑی گئیں اور یہ سلسلہ کسی نہ کسی رنگ میں اب تک جاری ہے۔سرزمین ہند میں ان تینوں مذاہب کے مابین مذہبی جنگوں کے جو بکثرت محرکات موجود تھے اُن کا مختصر جائزہ حسب ذیل ہے :- احیائے علوم اور تہذیب نو نے عموماً مذہب اور خصوصا عیسائیت کو جو چیلنج دیا تھا اُس کے نتیجہ میں عیسائی پادریوں میں مقابلے اور مدافعت کا ایک نیا جوش پیدا ہونے کے علاوہ انہیں عیسائیت کے لئے نئی منڈیوں کی بھی تلاش تھی۔اور نو آبادیات سے بہتر انہیں کوئی اور جگہ اس غرض کو پورا کرنے کے لئے نظر نہ آتی تھی۔انگریزی حکومت کا سورج نصف النہار پر تھا اور حکومت کے مذہب کو جو نفسیاتی برتری حاصل ہوتی رہی ہے، وہ پوری شان کے ساتھ عیسائیت کو ہندوستان میں حاصل تھی، نیز اس مذہب کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں جو اقتصادی اور اقتداری فوائد حاصل ہو سکتے تھے اُن کی تصویر بہت دلر یا تھی۔لہذا زمین ہندوستان عیسائیت