سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 109 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 109

1-9 کی ہدایت کے ماتحت میں نے آپ سے شروع کر دی تھی۔طب کا سبق میں نے اور میر محمد اسحاق صاحب نے ایک دن ہی شروع کیا تھا بلکہ میر صاحب کا ایک لطیفہ ہے جو ہمارے گھر میں خوب مشہور ہوا کہ دوسرے ہی دن میر محمد اسحق صاحب اپنی والدہ سے کہنے لگے اماں جان مجھے صبح جلدی جگا دیں کیونکہ مولوی صاحب دیر سے مطب میں آتے ہیں میں پہلے مطب میں چلا جاؤں گا تاکہ مریضوں کو نسخے لکھ لکھ کر دوں۔حالانکہ بھی ایک ہی دن اُن کو طلب شروع کئے ہوا تھا۔غرض میں نے آپ سے طب بھی پڑھی اور قرآن کریم کی تفسیر بھی۔قرآن کریم کی تفسیر آپ نے دو مہینے میں ختم کر دی۔آپ مجھے اپنے پاس بٹھا لیتے اور کبھی نصف پارہ اور کبھی پورا پارہ ترجمہ سے پڑھ کر سنا دیتے کسی کسی آیت کی تفسیر بھی کر دیتے۔اسی طرح بخاری آپ نے دو تین مہینے میں مجھے ختم کرا دی۔ایک دفعہ رمضان کے مہینے میں آپ نے سارے قرآن کا درس دیا تو اس میں بھی میں شریک ہو گیا۔چند عربی کے رسالے بھی مجھے آپ سے پڑھنے کا اتفاق ہوا۔غرض یہ میری علمیت تھی۔مگر انہی دنوں جب میں یہ کورس ختم کر رہا تھا مجھے اللہ تعالٰی نے ایک رویا۔دکھایا ہے ایک اور موقع پر آپ اپنے بزرگ استاد حضرت الحاج حکیم مولوی نور الدین کے طریق تعلیم کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :- مجھے سب سے بڑی تعلیم جو حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے دمی وہ یہی تھی کہ جب میں پڑھتے ہوئے کوئی سوال کرتا تو آپ فرماتے میاں آگے چلو۔اس سوال کے متعلق گھر جا کر خود سوچنا ہے حضرت حکیم مولانا نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ جو حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام کے وصال کے بعد سلسلہ احمدیہ کے پہلے خلیفہ چنے گئے تھے اپنے علم وفضل کی وجہ سے تمام ہندوستان له الموجود تقریر حضرت مصلح موجود بر موقع جلسه سالانه ۱۹۱۳ نه مده تا ۸۴