سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 108
1-A اور دو تین سطر میں ایک عبارت لکھ کر مجھے دی اور فرمایا اس کو نقل کرو۔بیس یہ امتحان تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لیا میں نے بڑی احتیاط سے اور سوچ سمجھ کر اس کو نقل کر دیا۔اول تو وہ عبارت کوئی زیادہ لمبی نہیں تھی۔دوسرے میں نے صرف نقل کرنا تھا۔اور نقل کرنے میں تو اور بھی آسانی ہوتی ہے۔کیونکہ اصل چیز سامنے ہوتی ہے اور پھر میں نے آہستہ آہستہ نقل کیا۔الف اور بارہ وغیرہ احتیاط سے ڈالے۔جب حضرت میسج موعود علیہ الصلوة والسلام نے اس کو دیکھا تو فرمانے لگے۔مجھے تومیر صاحب کی بات سے بڑا فکر پیدا ہو گیا تھا مگر اس کا خط تو میرے خط کے ساتھ ملتا جلتا ہے۔حضرت خلیفہ اول پہلے ہی میری تائید میں ادبار کھائے بیٹھے تھے۔فرمانے لگے حضور با میر صاحب کو تو یونہی جوش آگیا ورنہ اس کا خط تو بڑا اچھا ہے۔حضرت خلیفہ اول ہمیشہ مجھے فرمایا کرتے تھے کہ میاں تمہاری صحت ایسی نہیں کہ تم خود پڑھ سکو میرے پاس آجایا کرو میں پڑھتا جائی گا اور تم سنتے رہا کرو چنانچہ انہوں نے زور دے دے کر پہلے قرآن پڑھایا اور پھر بخاری پڑھا دی۔یہ نہیں کہ آپ نے آہستہ آہستہ مجھے قرآن پڑھایا ہو بلکہ آپ کا طریق یہ تھا کہ آپ قرآن پڑھتے جاتے اور ساتھ ساتھ اس کا ترجمہ کرتے جاتے۔کوئی بات ضروری سمجھتے تو بتا دیتے۔ورنہ جلدی جلدی پڑھاتے چلے جاتے۔آپ نے تین مہینہ میں مجھے سارا قرآن پڑھا دیا تھا۔اس کے بعد پھر کچھ ناغے ہونے لگ گئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد آپ نے پھر مجھے کہا کہ میاں مجھ سے بخاری تو پوری پڑھ لو۔دراصل میں نے آپ کو بتا دیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مجھے فرمایا کرتے تھے کہ مولوی صاحب سے قرآن اور بخاری پڑھ لو چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی زندگی میں ہی میں نے آپ سے قرآن اور بخاری پڑھنی شروع کر دی تھی گوناغے ہوتے رہے۔اسی طرح طلب بھی حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام