سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 81 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 81

میاں بشیر الدین محمود احمد جن کی عمر اس وقت چار پانچ سال کی ہوگی، تشریف لائے اور سب بادام اُٹھا کر جھولی میں ڈال لئے۔حضرت اقدس نے یہ دیکھ کر فرمایا۔یہ میاں بہت اچھا ہے، زیادہ نہیں لے گا۔صرف ایک دولے گا۔باقی سب ڈال دے گا۔جب حضرت صاحب نے یہ فرمایا تو میاں نے جھٹ سب بادام میرے آگے رکھ دیتے اور صرف ایک یا دو با دام لے کر چلے گئے۔بچوں کے اخلاق کی خوابی کی ایک بڑی اہم وجہ یہ ہے کہ ماں باپ انہیں نادان سمجھ کر ان سے دیانت اور امانت اور صداقت کا وہ معاملہ نہیں کرتے جن کی اُن سے وہ توقع رکھتے ہیں مثلاً ماں باپ دل سے چاہیں بھی کہ بچہ جھوٹ بولنے کا عادی نہ بنے تو بعض دفعہ دل بہلا دے گی خاطر یا اُن سے وقتی طور پر اپنا پیچھا چھڑانے کی نیت سے بچے کے سامنے جھوٹ بول دیتے ہیں بچوں سے ماں باپ کی کمزوریاں ہرگز چھپی نہیں رہتیں۔چنانچہ ایسے ماں باپ کی نصیحتوں کا بچوں پر قطعاً کوئی اثر نہیں پڑتا جن کا عمل ان کے قول سے مختلف ہو۔حضرت مرزا صاحب سے کسی قسم کی اخلاقی کمزوری سرزد ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا اور بچوں کی طبیعت پر آپ کے قول و فعل کی ہم آہنگی اور صداقت کا از خود اثر پڑتے رہنا ایک لازمی امر تھا۔آپ نے صرف اسی پر اکتفا نہ فرمائی بلکہ بچوں کی تربیت کی خاطر اس بارہ میں غیر معمولی احتیاط فرما یا کرتے تھے۔مثلاً حضرت منشی ظفر احمد صاحب کیور تھلوی راضی اللہ عنہ جو حضرت مرزا صاحب کے خاص عشاق صحابہ میں سے تھے بیان فرماتے ہیں : ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام لیٹے ہوئے تھے۔اور سید فضل شاہ صاحب مرحوم نے حضور کے پیر داب رہے تھے کہ شاہ صاحب نے اشارہ کر کے مجھے کہا کہ یہاں پر جیب میں کوئی سخت چیز پڑی ہے۔میں نے ہاتھ ڈال کر نکالی تو حضور کی آنکھ کھل گئی۔آدھی کی۔ٹوٹی گھڑے کی ایک چینی اور دو ایک ٹھیکرے تھے میں پھینکنے لگا تو حضور نے فرمایا : یہ میاں محمود نے کھیلتے کھیلتے میری جیب میں ڈال دیتے ہیں۔آپ پھینکیں نہیں ، میری جیب ہی میں ڈال دیں کیونکہ میاں نے ہمیں امین سمجھ کر اپنے کھیلنے کی چیز رکھی ہے، وہ مانگیں گے تو ہم