سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 82
Ar کہاں سے دیں گے ؟ اٹھے یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کی لطافت اور حسن سے پوری طرح لطف اندوز ہوتے کے لئے کسی راہ اچٹتی ہوئی ایک نظر کافی نہیں، بلکہ اس کی جاذبیت ہر صاحب ذوق کے قدم روک کر اُسے کچھ عرصہ ٹھرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔یہ ممکن نہیں کہ کوئی سخن شناس نظر دو گھڑیاں یہاں ٹھہر کر ایک خاص عالم محویت میں اس کا نظارہ کئے بغیر میاں سے گزر جائے۔کہتے ہیں کہ پارس پتھر سنگریزوں سے بھی مس کر جائے تو وہ سونا بن جاتے ہیں۔یہ تو ایک افسانہ ہے لیکن اعلیٰ اخلاقی اقدار کی عینک سے اگر دیکھیں تو وہ آدھی ٹوٹی گھڑے کی چینی اور ایک دو ٹھیکرے سونے نے کہیں زیادہ بیش قیمت اور حمک دمک میں فائق نظر آئیں گے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اقدس علیہ السلام کبھی کوئی چھوٹے سے چھوٹا موقع بھی ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے جس کی مدد سے اس بچے کے اخلاق کو ایک نرالی شان کے ساتھ صیقل کیا جا سکے۔چنانچہ مرزا محمد اسماعیل بیگ صاحب اسی قسم کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں :- حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دن کچھ اصحاب کے ساتھ سیر کو تشریف لے گئے۔راستہ میں ایک کیکر کا درخت گرا ہوا تھا بعض دوستوں نے اس کی شاخوں سے مسواکیں بنائیں۔صاحبزادہ مرزا محمود احمد بھی ساتھ تھے۔چھوٹی عمر تھی۔ایک مسواک کسی نے اُن کو بھی دے دی اور انہوں نے بے تکلفی اور بچین کی وجہ سے ایک دو دفعہ حضور کو بھی کہا یہ ابا مسواک سے ہیں، قمر حضور نے مسکراتے ہوئے فرمایا میاں ! اپہلے ہمیں یہ بتلاؤ کہ کس کی اجازت سے یہ مسواکیں حاصل کی گئی تھیں۔یہ بات سنتے ہی سب نے مسواکیں زمین پر پھینک دیں لیا ہے یہ واقعہ ایک انوکھا انداز دلکشی لئے ہوتے ہے اور اس لائق ہے کہ اصول تربیت کے مضمون میں اسے سنہری حروف میں رحم کیا جائے سڑک پر گرے ہوئے ایک کیکر کے درخت سے چند مسواکوں کی شہنیاں کاٹ لینا کوئی ایسا اخلاقی جرم نہیں کہ ایسے چوری کی حدود میں داخل سمجھا جائے اور کوئی دنیوی یا مذہبی عدالت ایسے شخص کے لئے کوئی سزا یا سرزنش تجویر کرے۔عام طور پر تو کھڑے درختوں سے بھی مسواک کے لئے شانیں کاٹ لی جاتی ہیں اور قبل ازیں اجازت حاصل کرنا کے اصحاب احمد جلد چهارم طبع دوم عب؟ نه تاریخ احمدیت جلد ۵ ص۲۱