سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 71
41 موعود بیٹے کی ولادت ** ی پیشگوئی کے تقریباً تین سال بعد (جس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے) وہ بچہ جس کے ذکر نے برصغیر پاک وہند کی مذہبی فضا میں تہلکہ مچائے رکھا بالآخر ۱۲ جنوری شده (بمطابق ۹ر حمادی الاول ) کو جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات قادیان میں پیدا ہوا۔اور تفاؤل کے طور پر اس قومی امید کے ساتھ کہ یہ وہی بچہ ثابت ہو گا جس کا وعدہ دیا گیا تھا ، اس کا نام بشیر الدین محمود احمد رکھا گیا۔جوں جوں مستقبل نے اپنے ورق الٹے یہ امر گمان سے یقین میں بدلتا چلا گیا کہ یہ وہی موعود بچہ ہے جس کے وجود کے ساتھ روئے زمین پر بسنے والی تمام قوموں کی تقدیر وابستہ ہونے والی ہے اور جس نے دین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر کرتے ہوئے زمین کے کناروں تک شہرت پانی ہے آپ کے والد حضرت مرزا غلام احمد بيع موجود عليه الصلوة والسلام کا کسی قدر تعارف پہلے گزر چکا ہے۔لہذا بے محل نہ ہو گا کہ آپ کی بزرگ والدہ کا بھی کچھ تعارف اس موقع پر کروایا جائے۔آپ کی والدہ حضرت سیدہ نصرت جہاں بگیر آپ کی والدہ ماجدہ حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا دہلی کے ایک قدیم اور معزز سید خاندان سے تعلق رکھتی تھیں جو اپنی بزرگی اور سیادت میں کئی سو سال سے دہلی میں مشہور چلا آرہا تھا۔اس خاندان کی ہندوستان میں سکونت کی تاریخ حضرت خواجہ سید میر محمد ވ بأمر رحمة اللہ علیہ سے شروع ہوتی ہے جن کا زمانہ سترھویں صدی عیسوی بتایا جاتا ہے۔نظر اس کے کہ آیا یہ خاندان پہلی مرتبہ سترھویں صدی ہی میں یا اس سے قبل دہلی میں آکر آباد ہوا اس میں شک نہیں کہ حضرت خواجہ صاحب کی غیر معمولی بزرگی اور بلند مقام کے باعث ہندوستان میں آپ ہی اس خاندان کے جد امجد تسلیم کئے جاتے ہیں۔آپ ایک صاحب کشف و رویا با خدا بزرگ تھے۔اور آپ کو خاندان کا جد امجد قرار دینے کی اصل وجہ یہ ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس خاندان کا بانی قرار دیا ہے۔یہ کشف اس لحاظ سے نہایت اہم اور قابل ذکر ہے کہ اس