سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 53
۔۔" ایسا شخص جس کی اپنی زندگی ہر آن خطرے میں ہو اور جو چاروں طرف سے دشمن کے نرغے میں گھرا ہوا ہوا کیا ہندو اور کیا عیسائی کیا سکھے اور کیا دیگر مذاہب کے پیرو کار ہر مذہب وملت کے ماننے والے اس کے خون کے پیاسے ہوں حتی کہ خود اپنے ہم مذہب اسکے خون کی پیاس میں کسی دوسرے سے پیچھے نہ رہے ہوں۔غیر تو غیر خود اپنے آبائی گھروں میں بسنے والے اپنے ہی خاندان کے افراد اس مذہبی عداوت میں غیروں پر بازی لے جا رہے ہوں۔کون ہے جو ان حالات میں ایک ایسی من گھڑت پیشگوئی کرنے کی جبہ اُت کرے جس کے پورا ہونے کا انحصار دوسرے اتقاقات کے علاوہ لازماً اس اتفاق پر بھی مبنی ہو کہ پیشین گو پیش گوئی کے بعد ایک معقول مدت تک زندہ رہے گا۔صرف یہی نہیں بلکہ اس کی رفیقہ حیات کی زندگی کی ضمانت بھی اسوقت تک اس میں شامل ہو جب تک خدا تعالیٰ اس کی گود ایک موعود بیٹے سے ہری نہیں کر دیتا۔ظاہر ہے کہ اگر صرف یہی اتفاقات پیش نظر ہوتے تو بھی کسی شخص کو اپنی صداقت اور کذب کا انحصار ان اتفاقات پر رکھنے کی جرات نہ ہوتی لیکن اتفاقات کا یہ سلسلہ میں ختم نہیں ہو جاتا۔پیشگوئی صرف ایک بیٹے کی پیدائش کی نہیں بلکہ ایک ایسے عظیم الشان فرزند کی ولادت کی ہے جس کے آنے سے ایک روحانی انقلاب کی داغ بیل ڈالی جانے والی ہے۔اس ضمن میں خود حضرت مرزا صاحب نے اپنے معترضین کو جو جواب دیا ہے وہ آپ کے اپنے الفاظ ہی میں پڑھنے سے تعلق رکھت ہے۔آپ فرماتے ہیں :- "اس جگہ آنکھیں کھول کر دیکھ لینا چاہیئے کہ یہ صرف پیشگوئی ہی نہیں بلکہ ایک عظیم الشان نشان آسمانی ہے جس کو خدائے کریم جل شانہ نے ہمارے نبی کریم رؤف و رحیم محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت و عظمت ظاہر کرنے کے لئے ظاہر فرمایا ہے اور در حقیقت یہ نشان ایک مردہ کے زندہ کرنے سے صدہا درجہ اعلیٰ و اولی و اکمل وافضل واتم ہے کیونکہ مردہ کے زندہ کرنے کی حقیقت یہی ہے کہ جناب الہی میں دُعا کر کے ایک رُوح واپس منگوایا جائے اور ایسا مردہ زندہ کرنا حضرت مسیح اور بعض دیگر انبیا علیہم السلام کی نسبت با تیبل میں لکھا گیا ہے جس کے ثبوت میں معترضین کو بہت سی کلام ہے اور پھر با وصف ان سب عقلی و علی جرح و قدح کے یہ بھی منقول ہے کہ ایسا مردہ صرف چند منٹ کے لئے زندہ رہتا تھا اور پھر دوبارہ اپنے عزیزوں کو دوہرے ماتم میں ڈال کر اس جہان سے رخصت۔۔