سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 52 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 52

۵۲ تین کو چار کرنے والا ہو گا (اس کے معنے سمجھ میں نہیں آئے) دوشنبہ ہے مبارک دوشنبه - فرزند دلبند گرامی ارجمند - منظهر الاول والآخر، مظهر الحق والعلام كان الله نزل من السما - جن کا نزول بہت مبارک اور جلال انہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔نور آتا ہے اور جن کو خدا نے اپنی رضا مندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہو گا۔وہ جلہ جلد بڑھے گا اور اسیرون کی رستگاری کا موجب ہوگا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جائے گا۔وَكَانَ اَمْرً ا مَقْضِيّ + اس پیشگوئی کے شائع ہونے پر ہندوستان کے مذہبی دنگل میں جو ہنگامہ برپا ہوا اس کی تفصیل ایک الگ کتاب کی متقاضی ہے اور اس موضوع پر متعد د رسالہ جات اور کتب شائع ہو چکی ہیں۔اس جگہ ہم نہایت اختصار کے ساتھ ممی پس منظر کو واضح کرنے کے لئے اُس ملک گیر رد عمل کا خلاصہ درج کیڑتے ہیں جو اس پیشگوئی کے نتیجہ میں ظاہر ہوا :- بعض مخالفین جو نسبتاً زیادہ سنجیدہ تھے، اس فکر میں مبتلا ہوتے کہ بیٹا تو اتفاقاً کبھی ہو سکتا ہے لہذا یہ پیش گوئی اگر یوری بھی ہو جائے تو اسے کوئی خاص نشان قرار نہیں دیا جا سکتا۔۲۔حضرت مرزا صاحب کی بڑی عمر اور کمزور صحت کو دیکھ کر اور اس وہم میں مبتلا ہو کر کہ چونکہ آپ نے نعوذ باللہ خدا پر بہتان باندھا ہے، مخالفین یہ یقین کر بیٹھے کہ بیٹا تو الگ رہا بیٹی بھی ان کو نصیب نہ ہوگی اور نعوذ باللہ یہ نامراد اور بعد از پیشگوئی ہے اور اولاد اس دنیا سے اٹھ جائیں گے۔آتے ہم اول الذکر فریق کے رد عمل کا تجزیہ کرتے ہیں کیا واقعی پچاس سال سے متجاوز عمر کا ایک انسان جس کی تمام زندگی ایک مقصد کے حصول میں صرف ہوئی ہو اور جس نے اپنی زندگی کے بیشتر ایام اور راتیں اس مقصد کی پیروی میں انتہائی جسمانی ذہنی اور روحانی مشقت کے ساتھ بسر کی ہوں، جس نے بکمال اپنے مال اور جان اور وقت اور عزت اور جذبات کو اس مقصد کی قربان گاہ کی بھینٹ چڑھا دیا ہو، کیا وہ اپنے عزیز ترین مقصد کو محض موسوم تمنا کی نذر کر سکتا ہے ؟ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک نه اشتهار ۲۰ فروری شد ، مندرجه تبلیغ رسالت جلد اول صفه ۵ تا ۱۰ و مجموعه اشتهارات جلد اول خنفر تا ۱۰۳