سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 43
عليه وسلم تھیں بلکہ کانٹوں سے بھرے ہوتے دُکھوں اور مصائب کے ان سنگلاخ راستوں سے گزارنا تھا جن پر سے گزرے بغیر قومیں کبھی بھی ترقیات کی بلند و بالا جنتوں میں داخل نہیں ہوا کرتیں۔یہ وہی راستہ تھا جو مکہ کی پتھری گلیوں اور جلتے جلتے ریگزاروں پر سے گزرتا تھا جہاں محمد صلی اللہ کے غلاموں کو گھسیٹا جاتا اور بلال کی چھاتی پر سلگتے ہوئے پتھر کی سلیں رکھی جاتی تھیں۔یہ وہی راستہ تھا جو طائف کو جاتا تھا اور جس کی ایک منزل شعب ابی طالب میں واقع تھی۔یہ راستہ وہی راستہ تھا جو بدر احد اور حنین کے مقاتل سے ہوکر گزرتا تھا۔بهر حال قصہ مختصر جب مسلمان علماء اور عامتہ الناس کا یہ حال تھا کہ باوجود اس کے کہ ایک سیح کے بدلے دوسرے مسیح کی آمد کی خبر اُن کو دی جارہی تھی وہ سخت غضب ناک اور برافروختہ تھے پھر ادھر عیسائیوں سے تحمل اور بردباری کی توقع بھلا کیا ہوسکتی تھی کہ جن کا نقصان مسلمانوں کے نقصان سے بہت بڑھ کر تھا۔مسلمانوں کا تو صرف ایک نبی فوت ہو رہا تھا جس سے پہلے اور بعد کے دوسرے سب نبی بھی گزر چکے تھے مگر عیسائیوں کے لئے تو یہ اُن کے ایک خدا کی موت کا اعلان تھا اور ان کے لئے یہ صدمہ اپنی نوعیت کا پہلا صدمہ تھا۔پس عیسائیوں کی طرف سے مخالفت کا جو شور برپا ہوا وہ ہندوستان اور مشرق وسطی کی حدود سے بہت آگے نکل گیا اور یورپ اور امریکہ کے کلیساؤں میں بھی سنائی دینے لگا۔حیرت ہے کہ اس زمانے میں ہندوستان جیسے غلام اور پسماندہ ملک کے ایک پسماندہ صوبے کی ایک چھوٹی سی گمنام بستی کے ایک غیر معروف اور گوشہ نشین دعویدار کے ایک ہی اعلان تے وہ عالمگیر زلزلہ برپا کر دیا کہ جن کے زیر دست جھٹکے یورپ اور امریکہ کے کلیساؤوں نے بھی شدت سے محسوس کئے۔یہ ایک دلچسپ داستان ہے کہ امریکہ کی عظیم الشان اور منقطع دنیا نے بھی قادیان کے اس دعویدار کا کس قدرت سنجیدگی اور فکر کے ساتھ نوٹس لیا اور وہاں کے بعض مشہور بابایان کلیسا کے ساتھ آپ کی کیسی فیصلہ کن جنگیں ہوئیں ! مقصود کلام اس وقت صرف اتنا ہے کہ حضرت مرزا صاحب مسیح ناصرتی کی وفات کے اعلان سے جہاں مسلمانوں میں بہت مشہور ہوئے وہاں اسی اعلان کی بدولت کل عالم کی عیسائی دنیا بھی آپ سے شدید نفرت کرنے لگی اور آپ کو نیست و نابود کرنے اور آپ کے پیغام کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے ہر حربہ بروئے کار لانے لگی۔لیکن آپ کے قدموں میں ایک ذرہ بھر لغزش نہ آئی، اور آپ اپنے اس موقف پر نہایت مضبوطی کے ساتھ آخری سانس تک قائم رہے کہ خدا تعالٰی کی دی ہوئی خبر کے مطابق مسیح ناصری جو بنی اسرائیل کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے تھے ہر دوسرے بشر رسول کی طرح وفات پاچکے ہیں اور می ناصری کی زندگی سے نہیں بلکہ اُن کی موت سے اسلام کا احیاتے تو مقدر اور وابستہ ہو چکا ہے