سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 33
مسیح موعود کے نزول کی پیشگوئی اور اس کی لطیف تشریح اگر مسیح ناصری علیہ السلام کی وفات قرآن و حدیث کی رو سے نیز تاریخی اور عقلی دلائل کی روشنی میں قطعی طور پر ثابت ہو جائے تو لازماً اس مسیح کے نزول کی پیشگوئی کی کوئی معقول توجیہ پیش کرنی ہوگی جس کی آمد کی خوش خبری اُمت محمدیہ کو دی گئی تھی اور نہ ان بکثرت اور متواتر احادیث کو کرد کرنا پڑے گا جن میں یہ پیش گوتیاں مذکور ہیں۔جماعت احمدیہ کے سوا دیگر مسلمان اس مسئلہ پر دو گروہوں میں بنے ہوئے ملتے ہیں۔ا قال وہ سواد اعظم جو ان احادیث نبویہ کو ان کے تواتر اور شہرت اور صحت کے پیش نظر رة کرنے پر آمادہ نہیں۔یہ گروہ جو زیادہ تر علما اور عوام الناس پر مشتمل ہے حضرت میع ناصری علیہ السلام کو زندہ آسمان پر بیٹھا ہوا تسلیم کرنے پر مصر ہے اور یقین رکھتا ہے کہ وہ ایک دن نازل ہو کر اپنے مفوضہ فرائض سرانجام دیں۔دوسرا گروہ اہل قرآن، نیچریوں اور مغربی تعلیم سے متاثر ان مسلمانوں پر مشتمل ہے جو عقلاً مسیح گے تا ناصری کا زندہ آسمان پر بیٹھ ربنا تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں۔لہذا یہ لوگ اُن احادیث نبویہ کو ان کے تواتر اور صحت اور شہرت کے باوجود کہ ذکر دیتے ہیں اور کسی آنے والے مصلح کے امکان سے ہی چھٹکارا پالیتے ہیں۔پس جہاں اول الذکر گروہ (جو بھاری اکثریت میں ہے) ایسی بعید از قیاس امیدوں کی دُنیا میں پس رہا ہے جن کے پورا ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا وہاں موخر الذکر اقلیت قنوطیت اور مایوسی کا شکار نظر آتی ہے اور کسی آسمانی مصلح کی آمد سے مایوس ہو کر اُمت مسلمہ کو اپنی مہبود اور بقا کے لئے خود ہی ہاتھے پاؤں مارنے کی تلقین کرتی ہے۔اس مکتب خیال کا رجحان زیادہ تر دنیا وی فلاح و بہبود اور سیاسی ترتی کی طرف ہے اور کوئی روحانی پیغام اُن کے پاس نہیں۔مندرجہ بالا دونوں مکاتب خیال کے مابین حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام نے وحی الہی کے مطابق جو