سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 358
ایک خاندان کے ماحول میں ماں باپ کو حاصل ہوتا ہے یعنی ان ماں باپ کو جن کے بارہ میں قرآن کریم یہ تعلیم دیتا ہے کہ اگر اُن میں سے دونوں یا ایک بہت بوڑھے ہو جائیں، تب بھی ( دامنِ ادب ہاتھ سے نہ جانے دیا اور اُن کے سامنے اُف تک نہ کرتا۔ایک چاند کے بعد دوسرا چاند اب ہم اس باب کو ختم کرتے ہیں۔بلاشبہ تاریخ احمدیت کا یہ ایک زریں اور بڑا معرکتہ الامام دور تھا۔حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے شدید مشکلات اور مخالفتوں کے علی الرغم خلافت کی مقدس امانت کی اس شان سے حفاظت فرمائی کہ بالاخر منکرین خلافت کو نا کامی اور نامرادی کا منہ دیکھ کر ہمیشہ کے لئے مرکز احمدیت کو الوداع کہنا پڑا۔اُفق احمدیت پر خلافت کا ایک چاند غروب ہوا تو ایک اور چاند طلوع ہوا۔اُسی طرح روشن اور چمکتا ہوا اور ماحول کو نور آسمانی سے جگمگاتا ہوا۔مخالفین بڑے کرب اور تکلیف کے ساتھ حسد کی آگ میں جلتے اور کسمساتے ہوئے اُسے بلند سے بلند تر ہوتا ہوا دیکھتے رہے لیکن کوئی نہ تھا جو اس کا کچھ بگاڑ سکے۔خلافت احمدیہ مستحکم اور ممکن ہو چکی تھی اور تھا مومنوں کی جماعت کو اپنے سایہ عاطفت میں لئے ہوئے بلند تر منازل کی طرف بڑھ رہی تھی۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ اس موقع پر بڑے دلنشین انداز میں احمدیت کے ایک رخصت ہوتے ہوئے خلیفہ کو الوداع اور ایک قدم رنجہ فرماتے ہوئے خلیفہ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔اے جانے والے تجھے تیرا پاک عہد خلافت مبارک ہو کہ تو نے اپنے امام و مطاع مسیح کی امانت کو خوب نبھایا اور خلافت کی بنیادوں کو ایسی آہنی سلاخوں سے باندھ دیا کہ پھر کوئی طاقت اسے اپنی جگہ سے ہلانہ کی جا ! اور اپنے آقا کے ہاتھوں سے مبارک باد کا تحفہ ہے اور رضوان یار کا ہار پہن کر جنت میں ابدی بسیرا کر۔اور اے آنے والے تجھے بھی مبارک ہو کہ تو نے سیاہ بادلوں کی دل ہلا دینے والی گرجوں میں مسند خلافت پر قدم رکھا اور قدم رکھتے ہی رحمت کی بارشیں برسا دیں۔تو ہزاروں کا نیتے ہوئے دلوں میں سے ہو کر تخت امامت کی طرف آیا اور پھر ایک ہاتھ کی جنبش سے ان تھراتے ہوئے سینوں کو سکنیت بخش دی۔آ ! اور ایک مشکور جماعت کی ہزاروں دعاؤں اور تمناؤں کے ساتھ اُن کی سرداری کے تاج کو قبول کر۔تو ہمارے پہلو سے اُٹھا ہے مگر بہت دور سے آیا ہے۔آیا اور تو ایک قریب رہنے والے کی محبت اور دُور سے آنے والے کے اکرام کا نظارہ دیکھ (سعد احمدی ست ۳۳) " O