سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 357 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 357

۳۵۷ خلیفہ صاحب کا تلون طبع بہت بڑھ گیا ہے اور عنقریب ایک نوٹس شائع کرنے والے ہیں۔جس سے اندیشہ بہت بڑے ابتلا کا ہے۔۔۔اگر ذرا بھی تخالف خلیفہ صاحب کی رائے سے ہو تو یہ افروختہ ہو جاتے ہیں۔۔۔سب حالات عرض کئے گئے مگر اُن کا جوش فرو نہ ہوا اور ایک اشتہار جاری کرنے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں " لئے " حضرت مولوی صاحب کی طبیعت میں ضد اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ دوسرے کی سُن ہی نہیں سکتے۔وصیت کو پس پشت ڈال کر خدا کے فرستادہ کے کلام کی بے پروا ہی کرتے ہوئے شخصی و جاہت اور حکومت ہی پیش نظر ہے سلسلہ تباہ ہو تو ہو مگر اپنے منہ سے نکلی ہوئی بات نہ ملے۔وہ سلسلہ جو کہ حضرت اقدس کے ذریعہ بنا تھا اور جو کہ بڑھے گا وہ چند ایک اشخاص کی ذاتی رائے کی وجہ سے اب ایسا گرنے کو ہے کہ پھیر ایک وقت کے بعد ہی سنبھلے تو سنبھلے ہے منافقین کا یہ پرانا وطیرہ ہے کہ بل فریب سے بات کرتے ہیں اور کسی بزرگ ہستی کی گستاخی کے لئے زبان بے قابو ہو رہی ہو تو لفظی چالاکی سے کوئی نہ کوئی راہ نکال لیتے ہیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ کی تقدیر کے خلاف زبان درازی مقصود ہو تو فلک کو برا بھلا کہہ کر دل کی بھڑاس نکال لی جاتی ہے۔اسی وجہ سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے افلاک یا گردش ایام کو بُرا بھلا کہنے سے سختی سے منع فرمایا ہے کیونکہ یہ در اصل تقدیر الہی کو بُرا کہنے کے مترادف ہے۔پس منافقین بھی خلیفہ وقت کو کوسنے کی جرات نہ پا کر کبھی اس کے بڑھاپے کو برا بھلا کہتے اور کبھی اس کی بیماری کو آڑ بنا کر مومنوں کی جماعت میں عزل خلیفہ کے جراثیم پھیلانے کی کوشش کرتے اور اس حقیقت کو فراموش کر دیتے کہ مومنوں کی سوسائٹی میں خلیفہ کا مقام اس سے بہت بڑھ کر ہے، جو ے خط ڈاکٹر مرز الیعقوب بیگ صاحب بنام سید حامد علی شاہ صاحب سیالکوئی سے خطہ ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب بنام سید حامد علی شاہ صاحب سیالکوئی