سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 356 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 356

۳۵۶ اور تحسین عمل کا راز مضمر ہے۔قرآن کریم اسی مضمون کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : حمید تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَئ قَدِيرِهِ نِ الَّذِى خَلَقَ المَوتَ وَالْحَيوة ليبلوكم أيكم احسن عملاه وهو العزيز بر دو العقوم۔الملت ۱۷ : ۲-۳) با برکت ہے وہ ذات جس کے قبضہ قدرت میں ہر قسم کی بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔وہی ہے میں نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تا کہ تمہیں آزمائش میں ڈال کر معلوم کرے کہ تم میں سے کون بہترین عمل کرنے والا ہے۔اور وہ غالب اور بہت بخشنے والا ہے۔حضرت خلیفہ المسح الاول رضی اللہ عنہ پر یہ الزام عائد کرنے والوں کے پیش نظر بالخصوص حضرت صاحبزادہ مرزا مجمو و احمد صاحب کی ذات تھی جن پر حضرت خلیفہ المسیح غیر معمولی اعتماد فرماتے اور معترضین کی نظر میں نااہل ہونے کے باوجود نہایت اہم جماعتی ذمہ داریاں آپ کے سپرد فرماتے۔یہاں تک بھی چہ میگوئیاں کی جاتیں کہ اپنے بعد میاں محمود" کو خلیفہ بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔اپنی آخری بیماری میں حضرت خلیفہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا اسی اعتراض کے پیش نظر تھا کہ : وہ جو کہتا ہے کہ فلاں شخص کو میں نے خلیفہ مقرر کر دیا ہے، غلط ہے مجھے کیا علم ہے کہ کون خلیفہ ہو گا اور کیا ہو گا۔کون خلیفہ بنے گا یا مجھ سے بہتر خلیفہ ہوگا۔میں نے کسی کو خلیفہ نہیں بنایا۔میں کسی کو خلیفہ نہیں بناتا۔میرا یہ کام نہیں خلیفے اللہ ہی بناتا ہے۔میرے بعد بھی اللہ ہی بنائے گا ہے بڑھاپے اور جسمانی کمزوری کے باعث نا اہلی کا الزام حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ پر تنقید کا ایک یہ بہانہ بھی بنایا جاتا تھا کہ چونکہ آپ بہت بوڑھے ہو چکے ہیں لہذا عمر کے طبعی تقاضے کے پیش نظر ( نعوذ باللہ ) طبیعت میں تلون اور ضد بہت بڑھ گئے ہیں۔اس ضمن میں بعض خطوط میں سے دو اقتباسات ملاحظہ فرمائیے :- سے المحکم ۲۸ فروری شد