سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 348
اور مذہبی رہنما کے اُولی الامر ہونے کے مابین قطبین کا بعد ہے لیکن آمر کے لفظی اشتراک کے باعث بعض اوقات فتنہ پرداز عامتہ الناس کو دھوکا دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔امر اور اولی الامر میں متعدد دوسرے بنیادی اختلافات کے علاوہ جن پر انسان ادنیٰ سے تدیر سے اطلاع پا سکتا ہے۔ایک فرق یہ ہوتا ہے کہ جب کہ آمر ایک مادر پدر آزاد اور جابر حاکم ہوتا ہے جس کی حکومت بیرونی پابندیوں سے نا آشنا اور تیر و اکراہ پر مبنی ہوتی ہے۔اُولی الامر بیک وقت ایک پہلو سے امرا اور ایک پہلو سے مانور ہوتا ہے اور براہ راست جسموں پر نہیں بلکہ دلوں کی معرفت اجسام پر حکومت کرتا ہے۔وہ ایک مذہبی ضابطہ حیات اور دستور العمل کے اس حد تک تابع ہوتا ہے کہ سیر مو بھی اس سے انحراف نہیں کر سکتا اور اتنے اخلاص اور فروتنی اور احترام کے ساتھ اس کے ایک ایک نقطے پر عمل پیرا ہوتا ہے کہ کوئی دنیوی جمہوریت کا پرستار اس کا عشر عشیر بھی اپنے جمہوری دستور کا احترام نہیں کرتا۔آمر کا تو معاملہ ہی الگ ہے۔ایک جمہوری حکمران بھی جب چاہے اپنی چرب زبانی اور اثر در سورخ سے کام لے کر بنیادی جمہوری دستور کی ہر اس شق کو تبدیل کروا سکتا ہے، جسے وہ ناپسند کرے لیکن ایک اولی الامر مآمور من الله کو اتنی بھی قدرت نہیں کہ قانون شریعت کا ایک شعشہ بھی اپنے مقام سے ٹال سکے۔المختصر یہ کہ ایک ہامور من اللہ پر دنیاوی معنوں میں " آمر ہونے کا الزام لگانا یا تو جہالت کے نتیجہ میں ہو سکتا ہے یا اندھی دشمنی کے نتیجہ میں تیسری کوئی صورت ذہن میں نہیں آتی۔ایک مامور من اللہ کے خلیفہ پر یہ الزام عاید کرنا تو بدرجہ اولی غلط ہے کیونکہ وہ تو اپنے فیصلوں میں دوسری پابندیوں میں جکڑا ہوا ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلفا کا معاملہ تو اس اعتراض سے اور بھی دور تر ہو جاتا ہے کیونکہ یہ خلفا تو ایک ایسے مامور من اللہ کے تابع فرمان ہیں جس کا پور پور سید المامورین حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات عالیہ کے بندھنوں میں عاشقانہ اور والہانہ جکڑا ہو ا تھا۔پہلے امام یا خلیفہ کی مخالفت کا الزام دوسرا اعتراض جو منکرین خلافت اور منافقین حضرت خلیفہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کی ذات بابرکات پر کرتے رہے وہ یہ تھا کہ نعوذ باللہ آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منشا اور وصیت کو پس پشت ڈالتے ہوئے انجمن کی حکمرانی کی بجائے خلافت کو جماعت پر ٹھونس دیا ہے۔یہ اعتراض بھی کوئی نیا نہیں کیونکہ قدیم سے منافقین کی یہ عادت چلی آئی ہے کہ ایک امام کی