سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 344
کی طرح چمکتی اور ہر شیطان مارد کو دھتکار رہی تھی۔یہ وہی ایاز نور تو تھا جو بعد میں تاریخ احمدیت کے أفق ير محمود بن کر ابھرا اور باون برس تک مسند خلافت پر جلوہ افروز رہا۔انکار خلافت کا فتنہ اور اس کی مختلف اشکال پیشتر اس کے کہ ہم اس دور محمودیت کے روشن باب میں داخل ہوں ہمیں چند لمحے یہاں توقف کر کے اس فتنے کی حقیقت سے متعلق کچھ مزید عرض کرنے کی اجازت دیجئے جو انکار خلافت کی صورت میں مختلف وقتوں میں حضرت خلیفہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے مبارک عہد میں بار بار سر اٹھانے کی کوشش کرتا رہا اور بالآخر تقدیر الہی نے خلافت اُولیٰ اور خلافت ثانیہ کے اس کی مرکز کی جڑوں کو قادیان کی سرزمین سے اکھاڑ پھینکا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محم و احمد صاحب کی سیرت اور کردار سے اس مضمون کا گہرا تعلق ہے کیونکہ عہد خلافت اُولیٰ میں بھی اور بعد میں اپنی باون سالہ خلافت کے درخشندہ دور میں بھی آپ نے خلافت احمدیہ کے استحکام کے لئے عظیم انسان جدوجہد کی۔یہ آپ کی انتھک محنت اور کاوش اور طویل تعلیم و تربیت ہی کا نتیجہ تھا کہ جماعت احمدیہ کے اندر خلافت کا مقام ایسا واضع ہو گیا اور قلوب کی گہرائیوں میں اس شجرہ طیبہ کی جڑیں ایسی مضبوطی کے ساتھ پیوستہ ہو گئیں کہ فتنوں کی تیز و تند آندھیاں پھر کبھی اُن کے پائے ثبات کو لرزاں نہ کر سکیں۔ابھی ذکر گزرا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت نے منکرین خلافت کو خلافت ثانیہ کے آغاز ہی میں قادیان چھوڑ کر چلے جانے پر مجبور کر دیا اور اس طرح اس گروہ کا تعلق احمدیت کے مرکزی تنے سے ہمیشہ کے لئے کٹ گیا۔لیکن اس کے باوجود چونکہ منکرین خلافت بھی احمدیت ہی کی طرف منسوب رہے لہذا عملاً احمدیت کے نام پہ دنیا کے سامنے دو تحریکیں پہلو بہ پہلو چل پڑیں۔یقیناً احباب جماعت کے لئے یہ یہ تقسیم ایک بہت تکلیف دہ امر تھا۔پس اس گروہ کو نصائح اور انذار کے ذریعہ سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔مصالحت اور مفاہمت کی کوششوں میں بالخصوص حضرت صاحبزادہ صاحب پیش پیش رہے لیکن جیسا کہ دو مرتبہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رویا کے ذریعہ خبر دی تھی انظریات کے اختلاف نے بالاخر تفرقہ کی صورت اختیار کرنی ہی تھی اور ایک گروہ کا کٹ کر جماعت سے الگ ہو جانا گویا تقدیر میرم تھا۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس اہم سانحہ کی خبر صرف صاحبزادہ صاحب ہی کو نہیں دی گئی تھی بلکہ ان سرکردہ احباب کو بھی اللہ تعالیٰ نے مکرر تنبیہ فرمائی جو تحریک انکارِ خلافت کے بانی مبانی تھے۔چنانچہ اس ضمن میں مکرم محرم چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی مندرجہ ذیل روایت بڑی عبرتناک ہے ؟