سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 332 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 332

۳۳۲ رض اس کے بعد آپ نے فرمایا کوئی اور ضروری امرا گر رہ گیا ہو تو بتا دیں میں لکھ دوں۔حاضرین نے عرض کیا : کوئی ضروری امر باقی نہیں رہا۔یہ سماں بڑا رقت آمیز اور درد و کرب سے پر تھا۔وصیت سنائی جانے کے بعد فرمایا : یہ نواب صاحب کے سپرد کر دو وہ اسے محفوظ رکھیں۔چنانچہ مولوی محمد علی : صاحب نے اصل کا غذ نواب صاحب کے سپرد کر دیا۔نواب صاحب نے دستخط کیلئے یہ کاغذ حضرت خلیفہ المسیح کی خدمت میں پیش کیا۔آپ نے اس پر دستخط کئے۔اس کے علاوہ مولوی محمد علی صاحب۔ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب ، صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب اور نواب محمد علی خان صاحب نے بھی بطور گواہ اس وصیت پر دستخط کئے۔لیکن افسوس کہ حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی الله عنه کی اس واضح اور غیر مبہم وصیت کے باوجود کہ آپ کے بعد کسی متقی فرد کو آپ کا جانشین منتخب کیا جائے (نہ کہ چند افراد پر مشتمل کسی انجمن کو) اور باوجود اس کے کہ نہایت حکیمانہ رنگ میں حضرت خلیفہ المسیح نے اس وصیت کو سُنانے کے لئے جناب مولانا محمد علی صاحب ہی کو منتخب فرمایا اور پھر مولانا کوم تین بار ان سے وصیت پڑھا کر سنوائی۔نہ تو مولانا کے ارادوں میں کوئی تبدیلی واقع ہوئی نہ اُن کے ہم خیال اور زیر اثر احباب کے طرز عمل کی کوئی اصلاح ہوتی۔گویا سرپنچوں کا کہا سر آنکھوں پر تھا لیکن۔۔۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے جب یہ حالات دیکھے تو سخت فکرمند ہوئے اور اس مضمون کا ایک اشتہار لکھ کر شائع کرنے کا ارادہ فرمایا کہ اب جبکہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ سخت بیمار ہیں مناسب نہیں کہ ہم اس طرح کی اختلافی بھییں کریں۔اس کا انجام فتنہ کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔اس لئے اس وقت تک کہ اللہ تعالیٰ حضور کو شفا عطا فرمائے اور آپ خود ان بحثوں کی نگرانی کر سکیں نہ کچھ لکھا جائے اور نہ زبانی گفتگو کی جائے۔آپ نے اشتہار کا مسودہ مولوی محمد علی صاحب کو بھیجا کہ اگر انہیں اس تجویز سے اتفاق ہو تو وہ بھی اس پر دستخط کر دیں تا ہر قسم کے خیالات کے لوگوں پر اس کا اثر ہو اور ساری جماعت فتنہ سے محفوظ ہو جائے لیکن مولوی محمد علی صاحب نے اس اشتہار پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا اور کا ا اور مذریہ پیش فرمایا کہ چونکہ اس اختلاف سے عام طور پر لوگ واقف نہیں اس لئے ان حالات میں یہ اشتہار ٹھیک نہیں۔ایسا اشتہار شائع کرنے سے دشمنوں کو جماعت کے اندرونی اختلاف سے واقفیت ہوگی اور انہیں ہنسی کا موقع ملے گا۔اس کی بجائے بہتر صورت یہ ہے کہ قادیان کے لوگوں کو جمع کیا جائے اور اس میں آپ اور میں تقریر کریں اور لوگوں کو سمجھائیں کہ اختلافی مسائل پر گفتگو ترک کر دیں۔حضرت صاحبزادہ صاحب کا مقصد چونکہ اتحاد و اتفاق تھا اس لیئے آپ نے مولوی صاحب کی تجویز مان لی اور اشتہار شائع کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔چنانچہ اس تجویز کے مطابق لوگ مسجد نور میں