سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 314 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 314

۳۱۴ ہیں۔محترم حافظ صاحب نے اسی طرح حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عرض کر دیا۔آپ نے فرمایا۔اِنَّ اكْرَمَكُمْ عِندَ اللهِ القَكُم - مجھے محمود جیسا ایک بھی منتقی نظر نہیں آتا۔پھر فرمایا کیا میں مولوی محمد علی صاحب سے کہوں کہ وہ نماز پڑھایا کریں ؟ انتخاب بحیثیت پریذیڈنٹ مجلس مشاورت الہ میں جلسہ سالانہ مارچ میں ہوا۔اس موقع پر احمدیہ کا نفرنس کے نام سے مجلس مشاورت ہوئی۔اس کانفرنس کے پریذیڈنٹ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب بالاتفاق مقرر ہوئے۔اور بعض مضامین پر ایک دلچسپ مباحثہ ہوا جس سے معلوم ہوا کہ قومی کاموں سے دلچسپی کا مذاق بڑھ رہا ہے" اله تعلیم الاسلام سکول کے جاری رکھنے اور مدرسہ احمدیہ کے قیام میں حضرت صاحبزادہ صاحب کا تاریخی کردار 19-0 غالبا شاہ کا واقعہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے احباب سے مشورہ طلب فرمایا کہ مدرسہ تعلیم الاسلام کو قائم کرنے کی جو غرض تھی اسے یہ مدرسہ پورا کر رہا ہے کہ نہیں۔اس پر مدرسہ کی انتظامیہ نے بعض مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے مدرسہ تو توڑ دینے کا مشورہ دیا۔اور اس پر بڑا اصرار کیا۔باوجود اس کے کہ اُس وقت حضرت صاحبزادہ صاحب کی عمر صرف 14 برس تھی۔آپ کی رائے بڑی عمر کے صاحب تجر بہ منتظمین کی نسبت زیادہ پختہ اور باؤزدن ثابت ہوئی۔آپ نے اس بات کی بڑے موثر رنگ میں وکالت فرمائی کہ یہ مدرسہ بہر حال قائم رہنا چاہیئے۔اور مشکلات پر دوسرے ذرائع سے قابو پایا جا سکتا ہے۔آپ کے اس موقف پر آپ کی مخالف رائے رکھنے والے بعض ه الفضل ۱۹ جنوری ۹۴ائد کار تاریخ ۶۱۹۱۰ ص ۱۴ در اپریل