سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 311 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 311

EZ تیرے جیسا شفیق وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا۔جب میں تیرے حضور میں آکر گڑ گڑایا اور زاری کی تو نے میری آواز سنی اور قبول کی میں نہیں جانتا کہ تو نے کبھی میری اضطرار کی دُعار دکھی ہو۔لین اے میرے خدا امین نهایت دردِ دل سے اور سچی تڑپ کے ساتھ تیرے حضور میں گرتا اور سجدہ کرتا ہوں اور عرض کرتا ہوں کہ میری دُعا کوشن اور میری ٹیکار کو پہنچے۔اے میرے قدوس خدا ! میری قوم ملاک ہو رہی ہے۔اسے ہلاکتنے سے بچا۔اگر وہ احمد کی کہلاتے ہیں تو مجھے اُن سے کیا تعلق، جب تک اُن کے دل اور سینے صاف نہ ہوں اور وہ تیری محبت میں سرشار نہ ہوں۔مجھے اُن سے کیا غرض سو اے میرے رب ! اپنی صفات رحمانیت اور رحیمیت کو جوش میں لا۔اور اُن کو پاک کر دے۔صحابہ کا سا جوش و خروش اُن میں پیدا ہو۔اور وہ تیرے دین کے لئے بے قرار ہو جائیں، اُن کے اعمال اُن کے اقوال سے زیان محمکہ اور صاف ہوں۔وہ تیرے پیارے چہرہ پر قربان ہوں اور نبی کریم پر فدا - تیرے بیچ کی دعائیں اُن کے حق میں قبول ہوں اور اس کی پاک اور کچھ تعلیم اُن کے دلوں میں گھر کر چاہتے۔اسے میرے خدا میری قوم کو تمام ابتلاؤں اور دکھوں سے بچا اور قسم قسم کی مصیبتوں سے انہیں محفوظ رکھے۔ان میں بڑے بڑے بزرگ پیدا کر۔پر ایک قوم ہو جائے جو تو نے پسند کر لی ہو۔اور یہ ایک گروہ ہو جین کو تو اپنے لئے مخصوص کرے۔شیطان کے تسلط سے محفوظ رہیں اور ہمیشہ ملائکہ کا نزول اپنے پر ہوتا رہے۔اس قوم کو دین و دنیا میں مبارک کو مبارک کر۔آمین ثم آمین یا رب العالمین اس کے بعد میں اپنے لئے اپنے بھائیوں کے لئے اپنی والدہ کے لئے اپنی ہمشیروں کے لئے اپنے دوستوں کے لئے اور اُن لوگوں کے لئے جن کا نام نیچے لکھتا ہوں، دُعا کرتا ہوں اور نہایت عاجز ہی سے سے دعا کرتا ہوں۔کہ ہم کو دین و دنیا میں مبارک کر نیک کرا پاک کر۔****۔