سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 276
764 کہیں سے تو بہت ہی گہری ہوتی ہے اور کہیں ذرا اچھی حالت میں ہے لیکن پھر بھی اتنا ضرور ہے کہ دیوار کی چوڑائی نصف سے بھی کم رہ گئی ہے کیونکہ بہت کثرت کے ساتھ پتھر گر گئے ہیں۔خیر یہ تو باہر کی حالت ہوئی۔اندر کا نظارہ اس سے بھی زیادہ عبرت ناک ہے یعنی وہ قلعہ جہاں وہ لوگ رہتے تھے کہ جن کے آگے بڑے بڑے بادشاہوں کے سر جھکتے تھے اس میں اب گوجر لوگ رہتے ہیں۔کوئی زمانہ ایسا ہو گا کہ اس قلعہ کی صفائی کا ایسا خیال رکھا جاتا ہوگا کہ ایک تنکا ایک نظر نہ آتا ہو گا مگر آج تو یہ حالت ہے کہ جابجا گوبر کے ڈھیر۔لگے ہوتے ہیں اور جگہ جگہ پر مویشی بندھے ہوتے ہیں۔سوائے چند تاریخی عمارات کے سب عمارتیں مسمار ہیں اور ان کے ملبہ سے اُن گوجروں نے اپنے رہائشی مکان بناتے ہیں۔سبحان اللہ اورسی علیہ جس کے اُٹھانے کیلئے انہی لوگوں کے باپ دادا ہزار کوششیں کرتے ہوں گے اور شاہی مزدوروں میں داخل ہونا چاہتے ہوں گے۔آج یہ لوگ اسکے مالک بن رہے ہیں اور وہ جگہ جیں میں داخل ہونے کیلئے بڑے بڑے راجوں مہاراجوں کو مہینوں وزیروں امیروں کی منت سماجت کرنی پڑتی ہو گئی آج اس جگہ پر گویا ان گوجروں کا قبضہ ہے۔اس قلعہ میں ایک عالیشان مسجد بھی ہے جسکے صحن میں ایک حوض بنا ہوا ہے۔اس کے علاوہ اس قلعہ میں وہ بُرج بھی ہے میں پر سے ہمایوں بادشاہ گرا تھا۔یہ ایک چھوٹا سا گول برج ہے جو سیاروں کی گردش دیکھنے کیلئے بنایا گیا تھا۔یہ بھی سنگ شرح کا ہے۔پتھر ہی کا زینہ ہے اور جس زمینہ سے ہمایوں کا پاؤں پھیلا تھا وہاں سے سیڑھی کاٹ کر نشان بنایا ہوا ہے جو کہ ایسا خطرناک ہے کہ مجھے خوف ہے کہ کسی وقت کسی نا واقف سیاح کے ساتھ وہاں ہمایوں ساہی واقعہ پیش نہ آئے۔خیران چیزوں کو دیکھتے ہوئے اور خُدا کی قدرت پر تعجب کرتے ہوئے ہم آگے روانہ ہوتے۔تھوڑے ہی فاصلے پر ہمایوں بادشاہ کا مقبرہ تھا جو نہایت خوبصورت بنا ہوا ہے اور پرانے بادشاہوں کی خشان و شوکت پر دلیل ہے۔اس کو دیکھا اور آگے پہلے - اب جس چیز کے دیکھنے کا ارادہ تھا۔یہ کوئی دنیا دی بادشاہ کا مقبرہ نہ تھا اور نہ ہی کوئی شاہی عمارت تھی نہ کوئی پرانا قلعہ تھا بلکہ یہ ایک نہایت برگزیدہ انسان کا مزار تھا جس نے اپنے زہد اپنے تقومی اپنی پر ہیز گاری اور اپنے اخلاص اور محبت الہی کی وجہ سے محبوب الہی کا لقب حاصل کیا تھا۔اس میں کچھ شک نہیں کہ آپ فوت ہو گئے لیکن اس میں بھی کوئی کلام نہیں کہ آپ لاکھوں نہیں کروڑوں زندوں سے بڑھ کے زندہ ہیں۔آپ نے قرب