سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 254
۲۵۴ نہیں بنائی مگر میں اتنا کہتا ہوں کہ آپ نے اور پیروں کے بچے بھی دیکھتے ہیں۔میرے مرشد زاده اور پیر زادہ کو بھی آپ نے دیکھا ہے کہ وہ قرآن کریم پر کیسا شیدا ہے اور اس کے حقائق ومعارف بیان کرنے میں کیسا قابل ہے۔اس قسم کے ریمارکس کے بعد جن میں حضرت صاحبزادہ صاحب کے مضمون کی بے حد تعریف تھی، خواجہ صاحب نے دوسرے اجلاس کو ختم کیا۔اس سفر ملتان 2 نومبر منشاء میں جماعت احمدیہ ملتان کے بہت اصرار پر اور حضرت خلیفہ المسیح الاول کی احیات سے حضرت صاحبزادہ صاحب نے ملتان کا سفر کیا اور ملتان میں منعقدہ ایک جلسہ سے خطاب فرمایا۔اس قافلہ کو قادیان سے روانگی کے وقت خود حضرت خلیفہ المسیح نے رخصت کیا اور فرمایا : " میں نے بہت دعا کی ہے۔عمان میں شیعہ بہت ہیں پر تم چار یار وہاں جاتے ہو۔نرمی سے وعظ کرد سخت کلامی نہ کرو۔دعاوں سے بہت کام لو۔امیر بنا بنایا تمہارے ساتھ ہے" آپ کا اشارہ حضرت صاحبزادہ صاحب کی طرف تھا کیونکہ آپ وند کے امیر تھے۔آپ نے جمعہ لاہور میں پڑھایا اور خطبہ میں خلافت کے برکات اور رحمت کا بیان کیا اور اس کی مخالفت کا خلاف قرآن و حدیث و تعامل صحابہ ہونا ثابت کیا اور جماعت کو تاکید فرمائی کہ اختلافات میں نہ پڑیں۔کوئی امر شتر اُن کے علم میں آدے تو اپنی مجلسوں میں اس پر مباحثات نہ کریں بلکہ ایسے معاملات حضرت خلیفہ اسیح تک پہنچا دیویں اور پھر وہاں سے جو حکم آوے اس پر عمل در آمد کریں اور جو لوگ خلافت کے خلاف کوئی بکواس کریں اُن کی مجلسوں میں بیٹھنا اور ان سے تعلق رکھنا غیرت کے خلاف سمجھیں ؟ ه الحكم قادیان در جون نشده، ص۳-۴ درجون له بد را قادیان ۱۸ ؍ دسمبر ۱۹۱۳ ص ۳ بدر ۱۸؍