سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 253 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 253

۲۵۳ اس لئے آپ تصور پہنچے اور وہاں جلسہ میں ایک لیکچر دینے کے بعد جلسہ سے فارغ ہو کر دوبارہ حضرت اُم المومنین کی خدمت بابرکت میں دہلی میں جاکر حاضر ہو گئے۔جہاں آپ نے ا ر اپریل کو ایک عام لیکچر دیا اور وہاں سے آپ دار الامان تمہ خیریت مع حضرت ام المومنین واپس پہنچے۔اس آخری سفر کے مفصل حالات بدر میں شائع ہونگے۔لیکن ایڈیٹر صاحب ممدوح نے آج ہی میری التجا پر اس بات کو منظور فرمایا ہے کہ موخر الذکر تقریریں کو رسالہ میں شائع کیا جائے جس کے لئے میں ناظرین کو مبارک باد دیتا ہوں۔جائنٹ ایڈیٹر یہ کئے انجمن احمدیہ فیروز پور کا سالانہ جلسه ۲۹- ۳۰ متی شانہ کو منعقد ہوا۔اس میں ۲۹ متی کو دوسرے اجلاس میں حضرت صاحبزادہ صاحب کی تقریر ہوتی۔ایڈیٹر الحکم نے اس کے متعلق لکھا کہ : حکیم احمد حسین صاحب کی نظم کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا لیکچر تھا جو آپ نے اس مضمون پر دیا : "اسلام کیا ہے اور وہ ہمیں کیا بنانا چاہتا ہے" یہ لیکچر نہایت قابلیت اور خصوصیت کے ساتھ دیا گیا۔مجھے اس لیکچریز زیادہ ریمارک کرنے کی ضرورت نہیں۔میں اس لیکچر کو عنقریب شائع کر دوں گا انشاء اللہ) کیونکہ میں نے اس لیکچر کو خود لکھا ہے اور حضرت صاحبزادہ صاحب کی اصلاح کے بعد اس کے شائع کرنے کی کوشش کروں گا۔دما توفيقى الا بالله العلى العظيم حضرت صاحبزادہ صاحب کے لیکچر کے وقت جناب خواجہ صاحب (خواجہ کمال الدین صاحب - ناقل) صدر جلسہ تھے۔خواجہ صاحب نے جو ریمارک اس لیکچر پر کئے ان میں سے دو تین فقرے میں اُنہیں کے الفاظ میں دیست ہوں۔صاحبزادہ صاحب نے جس قابلیت کے ساتھ اپنے پچر کو ختم کیا ہے، میں اس پر کچھ کہنے کی ضرورت پر نہیں سمجھتا مگر جو حقانیت اُن کے دل پر مرتسم ہے وہ بڑے بڑے آدمیوں میں نہیں۔اگر چہ ہم نے کوئی گندی که تمجید الازمان می شه صد تا ص۱۶۳