سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 245 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 245

۲۴۵ حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب کا منظوم کلام حضرت صاحبزادہ صاحب کا عارفانہ منظوم کلام پہلی مرتبہ متی ء میں شائع ہوا۔آپ کی پہلی نظم تنش کی ہے جب کہ آپ شاد تخلص کرتے تھے شعر و سخن کے باب میں آپ کا مسلک کیا رہا ہے، اس پر آپ خود ہی روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں : میں کسی نظم کو شاعری کے شوق میں نہیں کہتا ہوں۔بلکہ جب تک ایک خاص جوش پیدا نہ ہو۔نظم کہنا مکروہ سمجھتا ہوں۔اس لئے درد دل سے نکلا ہوا کام سمجھنا چاہئے۔بعض نظم نا مکمل صورت میں پیش کرنے سے میرا مقصد میرا یہ ہے تاکہ لوگ دیکھیں کہ شاعری کو بطور پیشہ نہیں اختیار کیا گیا۔بلکہ جب کبھی قلب پر کیفیت ظاہر ہوتی تو اس کا اظہار کر دیا جاتا ہے اور پھر یہ خیال نہیں ہوتا کہ اس کو مکمل بھی کیا جاوے۔چونکہ میں تکلف سے شعر نہیں کہتا۔ٹوٹے ہوئے دل کی صدا ہے۔پڑھو اور غور کرو۔خدا کرے یہ درد بھرے کلمات کسی سعید روح کے لیئے مفید و با برکت ثابت ہوں یا اے کلام محمود باب رحمت خود بخود پھر تم پر وا ہو جائے گا جب تمہارا قادر مطلق خدا ہو جائے گا جو کہ شمع روتے دلبر پہ فدا ہو جائے گا خاک بھی ہو گا تو پھر خاک شفا ہو جائے گا مدتی دوران کا جو خاکپ ہو جائے گا مہر عالم تاب سے روشن ہوا ہو جائے گا دیکھ لینا ایک دن خواہش پر آئے گی میری میرا ہر ذرہ محمد پر فدا ہو جائے گا لے تاریخ احمدیت جلد ۴ ص۴۷۳