سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 16
14 شکلیں بدلتی رہیں لیکن عملاً سیوا جی کی روح ہی ہر اُس ہند و تحریک کے اندر کار فرما نظر آتی ہے جو مسلمانوں کی سیاسی بیخ کنی اور اقتصادی استحصال کا مقصد لئے ہوتے تھی۔اس سیاسی حملہ کے پہلو بہ پہلو مذہب اسلام کی بیخ کنی کا مقصد لئے ایک انتہائی خطرناک مذہبی تحریک بھی جاری ہوتی جسے ہم آریہ سماج کے نام سے جانتے ہیں۔ان دونوں تحریکوں کا موازنہ کرتے ہوئے مهاشه فضل حسین صاحب رقمطراز ہیں :- و سمرتھ رامداس اور سیوا جی مرسیہ کا خواب پورا کرنے کے لئے جس قسم کی تحریک مہاتما تلک نے جاری کی، اسی طور کی تحریک سوامی دیانند جی نے بھی چلائی۔ان دونوں کا نصب العین ایک ہی تھا مگر طریق کار میں کسی قدر اختلاف تھا۔اول الذکر تحریک زیادہ ترسیاسی لائنوں پر چلائی گئی ، مگر آخر الذکر کو مذہبی رنگ دیا گیا اور یہی وجہ ہے کہ سوامی صاحب کی تحریک زیادہ وسیع زیادہ منظم زیادہ مضبوط زیادہ موثر اور زیادہ کامیاب ہوئی۔سوامی صاحب بھی وہی کچھ چاہتے تھے جو تملک مسودے کا اپدیش تھا، مگر تلک کی تحریک مہاراشٹر اور بنگال وغیرہ تک ہی محدود رہی اور سوامی صاحب کی تحریک سارے ملک میں پھیلی اور بار آور ہوئی ، کیونکہ اس پر جس قسم کا رنگ چڑھایا گیا تھا وہ جہاں جدید الخیال ہندووں کو اپیل کرتی تھی وہاں قدامت پسند ہندو بھی اس سے متاثر ہوتے تھے " لے خود سند و مورخین کی رائے میں آریہ سماج کے قیام کا واحد مقصد ہندوستان سے اسلام کو ملیامیٹ کرنا اور مکمل ہندو راج کا قیام تھا۔چنانچہ لالہ دھنیت رائے بی۔ایل۔ٹی لکھتے ہیں :- ”ہندوستان میں سوائے بہندو راج کے دوسرا راج ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتا۔ایک دن آئے گا کہ ہندوستان کے سب مسلمان شُدھی اُدی اندولن کی وجہ سے آریہ سماجی ہو جائیں گے۔یہ بھی ہندو بھائی ہیں۔آخر صرف ہندو ہی رہ جائیں گے۔یہ ہمارا آدرش ( نصب العین) ہے۔یہ ہماری انشا (منا) ہے سوامی جی مہاراج نے آریہ سماج کی بنیاد اسی اصول کوئے کر ڈالی تھی تھے ے ہندو راج کے منصوبے حصہ اول صف ۹۴ سه اخبار پر کاشس لا ہور ۲۷ اپریل شده