سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 218
۲۱۸ ایک صاحب علم و فضل بزرگ حضرت مولوی شیر علی صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :- ایک اور واقعہ جس کا میں اس مضمون میں ذکر کرنا چاہتا ہوں ، وہ حضور رین کی پہلی تقریر ہے جو حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد پہلے سالانہ جلسہ کے موقعہ پر کی۔یہ جلسہ مدرسہ احمدیہ کے صحن میں منعقد ہوا۔حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ حضور کے دائیں طرف سٹیج پر رونق افروز تھے بیٹیج کا رخ جانب شمال تھا۔اس تقریر کے متعلق دو باتیں خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔اول عجیب بات یہ تھی کہ اس وقت آپ کی آواز اور آپ کی ادا اور آپ کا لہجہ اور طریز تقریر حضرت مسیح موعود علیه السلام کی آواز اور طرز تقرر سے ایسے شدید طور پر مشابہ تھے کہ اس وقت سُننے والوں کے دل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جو ابھی تھوڑا عرصہ ہی ہو ا تھا ہم سے جدا ہوئے تھے یاد تازہ ہو گئی۔اور سامعین میں سے بہت ایسے تھے جن کی آنکھوں ئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس آواز کی وجہ سے جو اُن کے پسر موعود کے ہونٹوں سے اس وقت اس طرح پہنچ رہی تھی جس طرح گراموفون سے ایک نظروں سے غائب انسان کی آواز پہنچتی ہے، آنسو جاری ہو گئے اور اُن آنسو بہانے والوں میں ایک خاکسار بھی تھا۔اگر یہ کہنا درست ہے کہ انسان کی روح دوسرے یہ اُترتی ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی روح آپ پر اتر رہی تھی اور اس بات کا اعلان کر رہی تھی کہ یہ ہے میرا پیارا بیٹا جو مجھے بطور رحمت کے نشان کے دیا گیا تھا۔اور جس کی نسبت یہ کہا گیا تھا کہ وہ حسن داحسان میں تیرا نظیر ہو گا۔دوسری بات جو اس تقریر کے متعلق قابل ذکر ہے وہ یہ ہے کہ جب تقریر ختم ہو چکی تو حضرت خلیفہ المسح الاول رضی اللہ عنہ نے جن کی ساری عمر قرآن شریف پر تدبر کرنے میں صرف ہوئی تھی اور قرآن کریم جنگی روح کی غذا تھی فرمایا کہ میاں نے بہت سی آیات کی ایسی تفسیر کی ہے جو میرے لئے بھی بھی تھی۔