سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 217
۲۱ " وہ جلد جلد بڑھے گا " حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد کی جو صفات آپ کی ولادت کی عظیم الشان پیشگوئی میں بیان فرمائی گئی تھیں۔ان میں سے ایک یہ تھی کہ وہ جلد جلد بڑھے گا ، اگر چہ آپ کی تمام زندگی ہی اس الہام کی صداقت پر مہر تصدیق ثبت کرتی نظر آتی ہے۔لیکن خصوصیت کے ساتھ حضرت خلیفت المسیح الاوّل کی خلافت کے چھ سالہ دور میں آپ کی ذہنی علمی اور روحانی نشو نما کی رفتار عقل کو حیران کرتی ہے۔آپ کے مضامین' آپ کی تقریریں، آپ کا سفر آپ کا حضر، آپ کی انتظامی جد و جہد آپ کی بصیرت اور پُر خطر فتنوں پر گہری نظر رکھنا۔یہ تمام امور گہرے مطالعہ کے مستحق ہیں۔لیکن بجائے اس کے ہم اس پر خود کچھ رائے زنی کریں خود آپ ہی کے نثر و نظم کے بعض اقتباسات نیز آپ کے ہمعصر مبصرین کی بعض آیا پر اکتفا کرتے ہیں۔کیوں نہ ہو ! جب خود مشک بول رہا ہو تو کیا عطار کی خاموشی بہتر نہیں ؟ ریر و تحریر خلافت اُولی کی ابتدا میں حضرت صاحبزادہ صاحب کی عمر انہیں سال کی تھی اور حضرت خلیفہ المسيح الاول رضی اللہ عنہ کے وصال کے وقت آپ اپنی عمر کے ۲۶ ویں سال میں داخل ہو چکے تھے۔اس نو عمری میں آپ کی تقریر و تحریر کا جو ننگ تھا اس کے چند نمونے ناظرین کی خدمت میں پیش کئے جارہے ہیں۔آپ کے خیالات اور افکار میں ایک بزرگ مفکر کی سی پختگی آچکی تھی۔آپ کے الفاظ اثر اور جذب اور خلوص اور گداز میں گوندھے ہوتے تھے۔کلام تقع سے نا آشنا تھا اور تحریر تکلف سے پاک تھی۔تقریر میں ایک طبعی روانی تھی اور تحریر سلامت کا ایک بہتا ہوا دریا تھی۔دونوں ہی قرآنی علوم اور عرفان کے پانی سے لبریز اور دل و دماغ کو بیک وقت سیراب کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد 19 سال کی عمر میں آپ نے جو پہلی تقریرہ کی اس کے متعلق