سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 186 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 186

JAY حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کو ابھی پندرہ دن بھی نہ گزرے تھے کہ خواجہ صاحب (خواجہ کمال الدین صاحب) نے مولوی محمد علی صاحب کی موجودگی میں مجھ سے سوال کیا کہ میاں صاحب! آپ کا خلیفہ کے اختیارات کے متعلق کیا خیال ہے۔میں نے کہا کہ اختیارات کے فیصلہ کا وہ وقت تھا جب کہ ابھی بیعت نہ ہوئی تھی جب کہ حضرت خلیفہ اول نے صاف صاف کہہ دیا کہ بیعت کے بعد تم کو پوری پوری اطلاعات کرنی ہوگی۔اور اس تقریر کو سُن کر ہم نے بیعت کی تو اب آقا کے اختیار مقرر کرنے کا حق غلاموں کو کب حاصل ہے ؟ میرے اس جواب کو سُن کر خواجہ صاحب بات کا رُخ بدل گئے اور کہا بات تو ٹھیک ہے میں نے یونسی علمی طور پر بات دریافت کی تھی اور ترکوں کی خلافت کا حوالہ ہے کر کہا کہ چونکہ آج کل لوگوں میں اس کے متعلق بحث مشروع ہے اس لئے میں نے بھی آپ سے اس کا ذکر کر دیا، یہ معلوم کرنے کے لئے کہ آپ کی کیا رائے ہے۔اور اس پر ہماری گفتگو ختم ہو گئی۔لیکن اس سے بہر حال مجھ پر اُن کا عندیہ ظاہر ہو گیا اور میں نے سمجھ لینا کہ ان لوگوں کے دلوں میں حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کا کوئی ادب اور احترام نہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح خلافت کے اس طریق کو مٹا دیں جو ہمارے سلسلہ میں جاری ہوا ہے یا سے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدا ہی سے جماعت میں بعض سرکردہ اور دنیاوی تعلیم سے آراستہ احباب کا ایک گروہ ایسا پیدا ہو چکا تھا جو بظاہر تو نظام خلافت کی بجائے دنیوی جمہوری نظام کو سلسلہ عالیہ احمدیہ میں رائج کرنے کا خواہشمند نظر آتا تھا لیکن جیسا کہ آئندہ حالات کے تجزیہ سے ظاہر ہوگا، در حقیقت جمہوریت کا دعویٰ محض ایک اڑ تھی جس کے پیچھے ایک مخصوص گروہ کے ذاتی اقتدار کی تمنا کار فرما تھی۔چنانچہ قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے جن میں سر فہرست مکرم مولانا محمد علی صاحب ایم۔اے اور مکرم خواجہ کمال الدین صاح تھے حضرت خلیفہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کی بیعت بھی بادل نخواستہ کی تھی۔ورنہ بیعت کے بعد ے اختلافات سلسلہ کی تاریخ کے صحیح حالات ص ۲ و خلافت احمدیہ کے مخالفین کی تحریک صد