سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 185
۱۸۵ نظام خلافت کے استحکام کے لئے جدوجہد حضرت خلیفہ المسیح الاوّل رضی الله عنه سے کامل اطاعت اور وفا کا تعلق ذکر گزر چکا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال پر جماعت احمدیہ نے سو فی صد اجتماع کے ساتھ یہ فیصلہ کیا بلکہ یوں کہنا چاہتے کہ خدا کی اُمل تقدیر نے خود جماعت کو اس امر پر اکٹھا کر دیا کہ جماعت احمدیہ خلافت راشدہ کے طریق رہی کو اپنائے گی۔چنانچہ فیصلہ کے مطابق بفضلہ تعالیٰ تمام جماعت نے حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر کے اپنے عہد کی تجدید کی۔اس کے باوجود بیعت کرنے والوں میں بعض احباب ایسے بھی شامل تھے جو دل سے نظام خلافت کے اختیار کرنے پر راضی نہ تھے اور اگر چہ جماعت کی بہت بھاری اکثریت کے رجحان سے مرغوب ہو کر اُن کی یہ رائے وقتی طور پر دب گئی لیکن اس حد تک بھی مغلوب نہ ہوسکی کہ وہ اُسے ہمیشہ کے لئے خیرباد کہہ دیتے چنانچہ پہلے پہل دبی زبان سے یہ لوگ اپنی رائے کا اظہار کرتے رہے اور بعد میں ایک باقاعدہ گروہ کی صورت میں اس قسم کا پروپیگینڈہ کرنے لگے جس سے نظام خلافت کو شدید نقصان پہنچنے کا کا اندیشہ تھا۔حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب جو دل کی گہرائیوں کے ساتھ نظام خلافت پر کامل یقین رکھتے تھے۔اور جانتے تھے کہ اسلام کا احیائے نو نظام خلافت کے استحکام سے وابستہ ہے، ابتدا ہی سے اس بارہ میں فکر مند اور نگران تھے۔آپ کی فطری ذہانت نے آپ کو اسی لمحہ اس بارہ میں متنبہ کر دیا تھا جب ابھی اس فتنہ نے پہلی انگڑائی لی تھی۔اس صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے آپ تحریر فرماتے ہیں :