سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 169
149 خلائق کا یہ رجوع صرف پنجاب تک محدود نہیں تھا بلکہ شمال، جنوب مشرق اور مغرب غرض ہندستان کا کوئی ایسا خطہ باقی نہیں رہا جہاں سے حضرت مرزا صاحب کی زیارت کی غرض سے لوگ حاضر نہ ہوتے ہوں۔پھر ہندوستان تک ہی یہ بات محدود نہ تھی بلکہ مشرق وسطی یورپ اور امریکہ کے دور دراز ممالک کے باشندے بھی قادیان کی اس گمنام بستی میں حاضر ہونے لگے۔اسی رجوع خلائق کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مرزا صاحب علیہ السلام اپنی ایک نظم میں فرماتے ہیں : میں تھا غریب و بے کس و گمنام دبے ہنر کوئی نہ جانتا تھا کہ ہے قادیاں کدھر لوگوں کی اس طرف کو ذرا بھی نظر نہ تھی میرے وجود کی بھی کسی کو خبر نہ تھی اب دیکھتے ہو کیسا رجوع جہاں ہوا اک مرجع خواص یہی قادیاں ہوا آپ کے وصال سے قبل ہندوستان کے ہر گوشہ میں آپ کی جماعت کی شاخ قائم ہو چکی تھی۔جنوبی ہندوستان کے دور دراز علاقوں میں بھی آپ کے دعاوی کو بر حق تسلیم کر لیا گیا تھا اور ہندوستان سے باہر بعض عرب ممالک میں بھی آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مرسل اور مامور ربانی کے طور پر قبول کیا جارہا تھا۔اسی طرح امریکہ میں بھی آپ کے متبعین کی جماعت قائم ہو چکی تھی اور افغانستان کی سنگلاخ سرزمین میں تو نہ صرف یہ جماعت قائم ہوئی بلکہ بعض مخلصین نے اپنے خون کی قربانی دے کر آپ کے دعادی اور اپنے ایمان کی صداقت پر شہادت کی ابدی مہر تصدیق ثبت کر دی تھی۔جہاں تک نظام جماعت کا تعلق ہے، وہ بھی آپ کی زندگی ہی میں مضبوط خطوط پر قائم کیا جا چکا تھا بچوں اور نوجوانوں کی تربیت کے لئے ایک دینی مدرسہ اور تعلیم الاسلام سکول کا اجرا ہو چکا تھا۔کثرت سے آنے والے مہمانوں کے لئے ایک باقاعدہ مہمان خانہ کا قیام عمل میں آچکا تھا۔متعدد اخبارات ورسائل شائع ہو رہے تھے اور سلسلہ کے عظیم مقاصد کی تکمیل کے لئے چندہ جات کے ایک باقاعدہ نظام کی بنیاد بھی ڈال دی گئی تھی جس کی رُو سے جماعت میں شامل ہونے والے ہر شخص پر یہ لازم آتا تھا کہ وہ اپنی آمد میں سے کچھ نہ کچھ مقرہ رقم با قاعدہ پابندی کے ساتھ اشاعت اسلام کی غرض سے چندہ کے طور پر ادا کیا کرے۔ه بر این احمدیہ حصہ تیم ما