سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 168 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 168

رجوع ہوتا تھا کہ بعیت کے خطوط لانے والا ہرکارہ ایک وقت میں اس بوجھ کو نہیں اُٹھا سکتا تھا۔چنانچہ دودو۔۔یا تین تین دفعہ تھیلے بھر بھر کر حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کی خدمت میں لے کر آیا کرتا تھا۔قادیان میں آنے والے زائرین کی تعداد میں روز بروز اضافہ آخر مہمان خانے اور دارالضیافت کے قیام پر منتج ہوا۔اس میں بیسیوں مہمان قیام فرماتے جو حضرت صاحب کی زیارت کے لئے دور دراز مقامان سے حاضر ہوا کرتے تھے۔ان دنوں بٹالہ سے قادیان تک کا بارہ میل کا سفر سیدل یا یکے کے ذریعہ کیا جاتا تھا۔زائرین یکہ میانہ ہونے کی صورت میں بٹالہ میں انتظار کرنے کی بجائے پیدل سفر کو ترجیح دیتے اور شوق زیارت میں کشاں کشاں پیدل ہی قادیان کی سمت روانہ ہو جاتے۔آپ کی طرف خلقت کا یہ رجوع دشمنوں کے لئے اس قدر فکر اور تشویش کا موجب تھا کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے تو اپنا یہ دستور بنا لیا تھا کہ جب فرصت ملتی۔بٹالہ ریلوے اسٹیشن پر پہنچ کر قادیان کی سمت جانے والے زائرین کو سمجھا مجھا کر آپ کی زیارت سے باز رکھنے کی کوشش کرتے لیکن زیارت کا یہ سلسلہ دن بدن بڑھتا ہی رہا اور کوئی مخالفانہ کوشش مہجوم خلائق کو آپ تک رسائی پانے سے روک نہ سکی۔اس ضمن میں یہ دلچسپ واقعہ لکھنے کے لائق ہے کہ ایک بیعت کرنے والے نے تو اپنی بیعت کی وجہ ہی یہ بیان کی کہ میں اللہ تعالٰی کی اس فعلی تائید کو دیکھ کر حضرت مرزا صاحب کی صداقت پر ایمان لے آیا ہوں کہ ایک طرف تو مولوی محمد حسین صاحب بنا لوی ہیں جن کی جوتیاں گھس گئیں لوگوں کو حضرت مرزا صاحب کی زیارت سے روکنے کی کوشش میں اور دوسری طرف یہ حال ہے کہ حضرت مرزا صاحب کی خدمت میں حاضر ہونے کے شوق نے لوگوں کی جوتیاں گھسا دی ہیں اور وہ قادیان کے چکر لگاتے ہوئے نہیں تھکتے۔بهجوم خلائق کا رجوع قادیان کی جانب اتنا بڑھا کہ بٹالہ سے قادیان کو جانے والی سڑک پر زائرین کی آمد و رفت کی کثرت سے گڑھے پڑگئے اور حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کا وہ الہام معنا اور لفظاً پورا ہوا جس میں سالہا سال پہلے یہ خبر دی گئی تھی کہ : تأتيكَ مِنْ كُلِّ نَجْ عَمِيقٍ ديالونَ مِنْ كُلِّ نَجْ عَمِيقٍ له یعنی تیری طرف آنے والے لوگ اور تیری طرف آنے والے سامان گھرے گڑھوں والے راستوں پر سے گزر کر آئیں گے۔ه تذکره طبع سوم ص۳۵۶