سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 167
144 کے لئے تیار کر دیا ہے علاوہ ازیں جب آپ اپنی حرم محرمہ حضرت ام نا صر صاحبہ رضی اللہ عنہا کو اپنے سسرال سے بلانے کے لئے تشریف لے گئے تو اس وقت بھی آپ کے دل میں یہی کھٹکا لگا ہو ا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وصال ہو جاتے اور میری ہو گی وہاں موجود نہ ہو۔بهر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وصال حسب العامات ایک سفر کے دوران ہوا غلط جب کہ آپ لاہور میں ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے ہاں قیام پذیر تھے۔یہ وصال مذکورہ بالا استثناء کو چھوڑ کر اپنوں اور غیروں۔دونوں کے لئے اچانک اور غیر متوقع تھا۔آپ کے متبعین اور محبان پر آپ کے وصال کے سانحہ کی خبر بجلی بن کر گری اور ایک ایسا شدید غم آپکی جماعت کو پہنچا جس کی مثال کسی دنیوی رشتہ میں نظر نہیں آتی۔ہاں باپ بیجوں اور بہن بھائیوں کے وفات کے منظر بڑے روح فرسا ہوتے ہیں لیکن دیکھنے والے بتاتے ہیں کہ جیسا تم آپ کے ماننے والوں کو آپ کی جدائی کا تھا اس کی کوئی نظیر دنیوی رشتوں میں نہیں ملتی۔اس نظم کے ساتھ فکر کا پہلو بھی نمایاں تھا۔اور بکثرت زمینوں میں سوال اُٹھ رہے تھے کہ اب کیا ہوگا اور احمدیت کا کیا بنے گا۔اس کے مقابل پر آپ کے دشمنوں کے کیمپ میں اس خبر کے نتیجہ میں خوشی کے شادیانے بجنے لگے اور مولویوں کے بہکاتے ہوتے سادہ لوح عوام تو اس فہمی میں کہ نعوذ باللہ اسلام کا کوئی بڑا دشمن مرا ہے ناچتے اور شور مچاتے شہر کی گلیوں میں نکل آئے اور تالیاں پیٹتے ہوئے حضرت مسیح موعود کے وصال کے سانحہ کو ایک عظیم الشان مستوار کی طرح منایا۔انکی خوشی بھی محبان کے غم کی طرح دوسری خوشی تھی کیونکہ اس وفات میں دشمن کو صرف آپ ہی کی وفات نظر نہیں آئی بلکہ انہوں نے اس میں گویا احمدیت کو مرتا ہوا گمان کیا اور یقین کر لیا کہ اب چند ہی دن میں وہ اس تحریک کا جنازہ نکلتا ہوا دیکھ لیں گے۔پس ایک طرف دوسرے غم و فکر میں مبتلا ایک اندوہ میں جماعت تھی اور دوسری طرف دوسری مسترتوں میں سرشار ایک انبوہ کثیر سند دستان کے متعدد قصبات کی گلیوں اور بازاروں میں نکل کر تالیاں پیٹتے سیٹیاں بجاتے اور آوازے کستے ہوئے اپنی بے پناہ مسرت کا اظہار کر رہا تھا۔آیتے اب دیکھیں کہ احمدیت اس وقت کسی مقام پر کھڑی تھی۔وہ جماعت جس کی ابتدا نہ میں لدھیانہ کے مقام پر صرف چالیس افراد کے عہد بیعت سے ہوئی تھی، آپ کے وصال کے وقت سینکڑوں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں تک پہنچ چکی تھی۔آپ کی طرف عوام و خواص کا بعض دنوں میں تو اس شدت سے۔۔ه تقدیر الهی، تقریر حضرت مصلح موعود جاب الانه ۱۵ ص ۱۸۹ ۱۹۰