سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 166
144 قرب وصال کی خبر دی تھی لیکن احباب جماعت اپنی بے پناہ محبت کی وجہ سے یہ وہم بھی نہ کر سکتے تھے کہ ان کے روحانی آقا عنقریب انہیں داغ مفارقت دینے والے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالی نے قرب وصال کی جو خبریں دیں ان میں ایک خاص قابل ذکر خیر یہ بھی تھی : دو , " الرحيل ذ ثُمَّ الرَّحِيل نه i یعنی سفر آخرت ایک سفر میں پیش آئے گا۔ان واضح الہامات کے نتیجہ میں یا ویسے ہی گھرے قلیمی اور روحانی تعلق کی وجہ سے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو اس سفر میں ایک دھر کا سا: لگ گیا تھا اور طبیعت میں سخت بے کلی بے چینی اور غم کے جذبات پیدا ہو گئے تھے جیسا کہ مندرجہ ذیل روایت سے ظاہر ہے :- " حضرت صاحب کی وفات سے پہلے ایام کا ذکر ہے کہ ملک مبارک علی صاحب تاجر لا ہور روز شام کو اس مکان پر آجاتے جس میں حضرت صاحب ٹھہرے ہوئے تھے اور جب حضرت صاحب باہر سیر کو جاتے تو وہ اپنی لکھی میں بیٹھ کر ساتھ ہو جاتے تھے۔مجھے سیر کے لئے حضرت صاحب نے ایک گھوڑی منگوا دی ہوئی تھی۔میں بھی اس پر سوار ہو کر جایا کرتا تھا اور سواری کی سڑک پر گاڑی کے ساتھ ساتھ گھوڑی دوڑاتا چلا جاتا تھا اور باتیں بھی کرتا جاتا تھا۔لیکن جس رات کو حضرت صاحب کی بیماری میں ترقی ہو کر دوسرے دن آپ نے فوت ہوتا تھا، میری طبیعت پر کچھ بوجھ سا معلوم ہوتا تھا۔اس لئے میں گھوڑی پر سوار نہ ہوا۔ملک صاحب نے کہا میری گاڑی میں ہی آجائیں۔چنانچہ میں اُن کے ساتھ بیٹھ گیا لیکن بیٹھتے ہی میرا دل افسردگی کے ایک گہرے گڑھے میں گر گیا اور یہ مصرعہ میری زبان پر جاری ہو گیا کہ : 4 راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تیری رضا ہو ملک صاحب مجھے اپنی باتیں سنائیں۔میں کسی ایک آدھ بات کا جواب دے دیتا۔تو پھر اسی خیال میں مشغول ہو جاتا۔رات کو ہی حضرت صاحب کی بیماری یکدم ترقی کر گئی اور صبح آپ فوت ہو گئے۔یہ بھی ایک تقدیر خاص تھی جبس نے مجھے وقت سے پہلے اس ناقابل برداشت صدمہ کے برداشت کرنے ے تذکرہ طبع سوم مره