سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 165 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 165

۱۶۵ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وصال اور تدفین۔۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے ساتھ ہی حضرت صاحبزادہ مرز البشیر الدین محمود احمد صاحب کی ابتدائی تربیت کا عہد آفریں دور ختم ہوا اور آپ نے ایک نئے دور میں قدم رکھا جو آپ کے عہد کی آزمائشوں کا دور تھا لیکن اس سے پہلے کہ ہم اس دور کی تفاصیل پر نظر ڈالیں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے عظیم سانحہ کے متعلق کچھ اور تفاصیل بیان کریں۔کیونکہ یہ واقعہ اس دور کا ایک ایسا تاریخی واقعہ ہے جس کا محض اُچٹتا ہوا ذکر نہ تو لکھنے والے کی پیاس بجھا سکتا ہے اور نہ پڑھنے والے کی۔گذشتہ صفحات میں قارئین جگہ جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف ایسی پیشگوئیوں یا تمناؤں کا ذکر پڑھ چکے ہیں جن کے پورا ہونے کی صورت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات (معاذ اللہ ) ایک انتہائی مایوسی ناکامی اور نامرادی کی وفات ہوئی چاہتے تھی۔احمدیت یعنی اسلام کے از سرنو زندہ ہونے کی وہ عالمگیر تحریک جس کی باقاعدہ بنیاد حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام نے شملہ میں بھی آپ کے دعوئی کے مطابق یہ کوئی انسانی تحریک نہیں تھی بلکہ الہی منشا کے مطابق یہ وہی تحریک تھی جس کی خوشخبری انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی حضرت مسیح کے نزول اور کبھی مہدی کے ظہور کے طور پر فرماتی تھی۔یہ تحریک جیسا کہ ظاہر ہے انتہائی کمزوری کے عالم میں شروع ہوئی جب کہ ہندوستان بھر میں صرف گنتی کے چند حق شناس بزرگوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر کے اس کی ابتدا کی۔ظاہر ہے کہ یہ وقت احمدیت کی تاریخ میں انتہائی کمزوری کا وقت تھا اور اس کے مقابل پر احمدیت کا دشمن اپنی نوعیت کمیت اور کیفیت کے لحاظ سے اتنا قوی اور غالب نظر آتا تھا کہ باہمی نسبت کے لحاظ سے ایسی قوت اسے پھر کبھی نصیب نہ ہوئی۔مختصراً اب ہم دیکھیں گے کہ حضرت مرزا صاحب کے وصال کے وقت احمدیت کس مقام پر کھڑی تھی۔کیا اس کی کمزوری میں دشمن کے پے بہ پے حملوں کی وجہ سے اضافہ ہوا تھا یا بر کس صورت حال تھتی۔حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کا وصال ۲۶ مئی نشہ کو لاہور کے مقام پر ہوا۔آپ نے یہ سفر ایک دینی اور تبلیغی مہم کے سلسلہ میں اختیار فرمایا تھا۔اگر چہ اس سفر سے قبل اللہ تعالیٰ نے آپ کو باربار